BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 July, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہلاکت نسلی تعصب کا نتیجہ‘
شیزان عمرجی
شیزان عمرجی کے خاندان نے ایشیائی آبادی سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے
برطانوی کاؤنٹی لنکا شائر کے علاقے پریسٹن میں ایک جھگڑے کے دوران بیس سالہ ایشیائی لڑکے کی ہلاکت نسلی تعصب کا نتیجہ تھی۔

فشِ وک ویو کے رہائشی شیزان عمر جی کو کیلن سٹیٹ کے علاقے میں ہفتے کی صبح چالیس ایشیائی اور سفیدفام لڑکوں کی لڑائی کے دوران چاقوگھونپ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

لنکاشائر فورس کے نائب سپرٹنڈنٹ گراہم گارڈنر کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران نسلی تعصب پر مبنی فقرے استعمال کیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ’اس قتل میں نسلی تعصب کا ہاتھ ہے اور اب یہ ایک نسلی تعصب کی وجہ سے ہونے والے قتل کی تفتیش ہے‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں سفید فام اور ایشیائی باشندے شریک تھے اور اس سلسلے میں دو افراد کو قتل اور چھ کو غیر مناسب رویے کے مظاہرے کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

اس لڑائی کے نتیجے میں زخمی ہونے والے چار افراد کو ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد بھی دی گئی تھی اور اب انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس لڑائی میں چاقوؤں ،بوتلوں اور بیس بال کے بلّوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔

شیزان عمرجی ہیلی فیکس بنک کے کال سنٹر میں کام کرتے تھے اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کے خاندان نے ایشیائی آبادی سے پرسکون رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔

شیزان کے کزن عمرجی نے کہا کہ’ سارا خاندان اس سانحے کے نتیجے میں شدید صدمے کا شکار ہے اور ہماری اپنی کمیونٹی سے اپیل ہے کہ وہ آگے آئیں اور پولیس کی مدد کریں‘۔ انہوں نے کہا کہ’ شیزان ایک بہت اچھا لڑکا تھا۔ وہ خود لوگوں کا احترام کرتا تھا اور لوگ سا کا احترام کرتے تھے‘۔

ادھر مانچسٹر کے قریب قصبے ہڈرسفیلڈ کی پولیس نےایک گینگ کے ہاتھوں نسلی تصعب پر ایک ایشیائی ٹیکسی ڈرائیور کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق اکتالیس سالہ ایشیائی ڈرائیور ہفتے کی رات گولکر کے علاقے میں شدید زخمی حالت میں پایا گیا اور بعد ازاں اس نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ’ ہم اسے ایک نسلی تعصباتی حملہ مان رہے ہیں۔ اس شخص پر چھ افراد نے اس وقت حملہ کیا جب اسے ایک جگہ پر سواری اٹھانے کے لیئے بلایا گیا‘۔ پولیس نے اس سلسلے میں سولہ سے انیس سالہ کی عمر کے چار مردوں اور ایک عورت کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد