مارکیٹ دھماکے، 42 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس کے مطابق بغداد کے جنوب میں محمودیہ کے قصبے میں ایک حملے میں کم سے کم بیالیس افراد ہلاک جبکہ ساٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا ہے یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب بندوقوں سے مسلح افراد نے پیر کو محمودیہ میں کھلی جگہ پر لگے ایک بازار میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس موقع پر دھماکے بھی ہوئے۔ ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں کئی خواتین اور بچے شامل ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ حملے سے قصبے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ محمودیہ کی مقامی پولیس کے مطابق پہلے بازار پر مارٹر سے حملہ کیا گیا جس کے بعد مسلح افراد نے دھاوا بول دیا اور دکانوں اور خریداری کے لیئے آئے ہوئے لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دی، لیکن بغداد میں سرکاری ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں دھماکے ایک کار بم کے نتیجے میں ہوئے۔ ایک اور اطلاع میں یہ کہا جا رہا ہے یہ حملہ دراصل ایک جنازے کے جلوس پر کیا گیا جس پر احتجاج کرتے ہوئے مقتدہ الصدر کی جماعت کے ارکان پالیمان نے اسمبلی سے واک آؤٹ بھی کیا۔ ادھر ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ محمودیہ کے بازار پر حملے سے پہلے ایک چوکی پر تین عراقی فوجیوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد مقامی ہسپتال میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھگڑے بھی ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق میں اسی افراد کا اغواء22 June, 2006 | آس پاس عراقی یکجہتی کا نیا منصوبہ 25 June, 2006 | آس پاس مغوی عراقی نائب وزیر آزاد ہو گئے04 July, 2006 | آس پاس عراق: تشدد میں مزید 25 ہلاک27 June, 2006 | آس پاس عراق خودکش حملے میں 23 ہلاک16 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||