BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 July, 2006, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مارکیٹ دھماکے، 42 ہلاک
حملے سے قصبے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔
حملے سے قصبے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔
عراقی پولیس کے مطابق بغداد کے جنوب میں محمودیہ کے قصبے میں ایک حملے میں کم سے کم بیالیس افراد ہلاک جبکہ ساٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب بندوقوں سے مسلح افراد نے پیر کو محمودیہ میں کھلی جگہ پر لگے ایک بازار میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس موقع پر دھماکے بھی ہوئے۔

ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں کئی خواتین اور بچے شامل ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ حملے سے قصبے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

محمودیہ کی مقامی پولیس کے مطابق پہلے بازار پر مارٹر سے حملہ کیا گیا جس کے بعد مسلح افراد نے دھاوا بول دیا اور دکانوں اور خریداری کے لیئے آئے ہوئے لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دی، لیکن بغداد میں سرکاری ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں دھماکے ایک کار بم کے نتیجے میں ہوئے۔

ایک اور اطلاع میں یہ کہا جا رہا ہے یہ حملہ دراصل ایک جنازے کے جلوس پر کیا گیا جس پر احتجاج کرتے ہوئے مقتدہ الصدر کی جماعت کے ارکان پالیمان نے اسمبلی سے واک آؤٹ بھی کیا۔

ادھر ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ محمودیہ کے بازار پر حملے سے پہلے ایک چوکی پر تین عراقی فوجیوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد مقامی ہسپتال میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھگڑے بھی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد