BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 June, 2006, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کویتی انتخابات، خواتین کے بھی ووٹ

ایک خاتون امیدوار کا خراب کیا گیا پوسٹر
خواتین کی شمولیت سے سب لوگ خوش نہیں ہیں
کویت میں جمعرات کو نئی پارلیمان کے لیئے انتخابات ہو رہے ہیں جن میں پہلی مرتبہ خواتین کو بھی قومی سطح پر انتخابات میں حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ہے۔

اگرچہ کویت خلیج میں سب سے پرانی پارلیمانی جمہوریت کا حامل ملک ہے جس کی تاریخ انیس سو ساٹھ کے عشرے تک جاتی ہے، تاہم یہ خواتین کو قومی سطح پر ووٹ کا حق دینے والے ممالک میں سب سے آخر میں ہے۔

خطے کے دوسرے ممالک میں خواتین کو ووٹ کا حق دینے کی تحریک عوام کی جانب سے نہیں بلکہ حکمران خاندانوں کی جانب سے چلی۔ لیکن کویت میں پہلے سے موجود پارلیمانی نظام کی وجہ سے مقننہ کے ممبران کو یہ موقع مل جاتا تھا کہ وہ خواتین کے اس حق کے خلاف ووٹ دے دیں۔

انیس سو ننانوے میں کویت کے اس وقت کے امیر شیخ جابر الاحمد الصباح نے خواتین کے ووٹ کے حق میں شاہی فرمان جاری کیا جسے قومی اسمبلی مسترد کر چکی تھی۔ لیکن مخالفین نے اسے کثرت رائے سے نا منظور کر دیا جو اسے کویت کی روایات کے خلاف سمجھتے تھے۔

خواتین کے حقوق کے لیئے کام کرنے والی تنظیموں کی مزید چھ سالہ جدوجہد کے نتیجے میں اب خواتین کو یہ حق دیا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا جمہوری طریقے سے آنا کویت کے لوگوں کی نظروں میں شاہی فرمان سے زیادہ بہتر ہے۔

خلیج کے جنوبی حصے کی ریاستیں ان انتخابات کا قریب سے جائزہ لے رہی ہیں۔ اس خطے میں سیاسی حقوق منتشر حالت میں ہیں اور لوگوں کے بنیادی حقوق بھی زیادہ تر محدود ہیں۔

امیر کویت شیح صباح
خطے میں ان تبدیلیوں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے

تاہم ان تمام ممالک میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ یہ کہ یہ سب ایک سمت میں بڑھ رہے ہیں جس میں عوام کی نمائندگی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

ان تبدیلیوں کی وجوہات میں بین الاقوامی دباؤ بھی ایک بڑی وجہ ہے جس کا بڑا محرک امریکہ اور خطے میں اس کی موجودگی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اکیسویں صدی کی دوسری تبدیلیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن میں ذرائع ابلاغ کا کردار بہت نمایاں ہے۔

اس وقت سعودی عرب کے علاوہ تمام خلیجی ممالک میں خواتین کابینہ کا حصہ ہیں۔ بحرین، قطر اور اومان میں پہلے ہی خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ اگرچہ ان ممالک میں کوئی خاتون رکن منتخب نہیں ہو سکی ہے تاہم خواتین کو نامزدگی کے ذریعے پارلیمان میں نمائندگی دی گئی ہے۔

سعودی عرب میں اگرچہ خواتین کو محدود انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے تاہم پچھلے سال نومبر میں جدہ کی چیمبر آف کامرس کے انتخابات میں خواتین نے امیدواروں اور ووٹروں کی حیثیت سے حصہ لیا۔

متحدہ عرب امارات میں انتخابات نہیں ہوتے۔ تاہم اب ان کا وعدہ کیا جا رہا ہے اور ان میں خواتین کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق ہو گا۔

خلیج میں ہر شخص کویت کی طرز پر جمہوری نظام دیکھنے کا خواہش مند بھی نہیں ہے۔ کچھ لوگ اسے بہت متنازعہ اور لڑائی کا باعث سمجھتے ہیں۔

اس وقت کویتی انتخابات بھی ایک تنازعہ کے نتیجے میں ہو رہے ہیں۔ کویت کی پارلیمان کی مدت دو ہزار سات میں پوری ہونا تھی لیکن امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے ترقی پسند ممبران سے اختلافات کے باعث پارلیمان تحلیل کر دی۔

جمہوریت کے باوجود ان ممالک میں بادشاہت قائم ہے اور آخری فیصلہ شاہی خاندان کا ہی ہوتا ہے۔ خطے میں کویتی خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے کے نتیجے میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ آیا امیر کویت اور ان کے وزیر اعظم ان باغی اراکین کے ساتھ رعایت برتتے ہیں یا نہیں جن کی وجہ سے انتخابات قبل از وقت کروانے پڑے۔

اسی بارے میں
امیر کویت کی آخری رسومات
15 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد