امیر کویت کی آخری رسومات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت کے امیر شیخ جابر الاحمد الصباح کو ان کی وفات کے چند گھنٹے بعد دفنا دیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی اور انہیں ایک بے نام قبر میں دفنا دیا گیا۔ مرحوم رہنما کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی اور انہوں نے 1977 میں اقتدار سنبھالا تھا۔ تاہم 2001 میں طبعیت کی خرابی کے بعد وہ منظر عام پر کم ہی آتے تھے۔ ولی عہد شیخ سعدالعبداللہ الصباح کو ملک کا نیا امیر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی صحت بھی اچھی نہیں ہے۔ شیخ جابر کی وفات کی خبر اتوار کے روز سرکاری ٹیلیویژن پر نشر کی گئی۔ ملک بھی میں چالیس روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ادارے اور دفاتر تین دن بند رہیں گے۔
شیخ جابر کویت کی 245 سال پرانی سلطنت کے تیرہویں حکمران تھا۔ وہ 1985 میں ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے اور 1990 میں کویت پر عراقی قبضہ بھی انہی کے دور میں ہوا۔ عراقی حملہ کے بعد وہ سعودی عرب چلے گئے اور مارچ 1991 میں امریکی سربراہی میں کی جانے والے جنگ کے نتیجے میں انہوں نے دوبارہ اقتدار سنبھالا۔ ان کے دور میں کویت کے امریکہ اور برطانیہ سے بہت اچھے تعلقات قائم ہوئے۔ کویت پہلا عرب ملک ہے جس میں منتخب پارلیمنٹ ہے اور حکمران خاندان پر اختیارات میں کمی کے لیے کافی دباؤ ہے۔
نئے فرمانروا شیخ سعد شیخ جابر کے دور کے کزن ہیں اور انہیں 1978 میں ولی عہد نامزد کیا گیا تھا۔ ان کی صحت بھی ذیابیطس اور دوسرے مسائل کی وجہ سے خراب ہے اور خیال ہے کہ کاروبار مملکت وزیر اعظم شیخ صباح الاحمد الصباح چلائیں گے جو شیخ جابر کے بھائی ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||