کویت کے امیر انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت کے امیر شیخ جابر بن احمد الصباح ستتر کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ شیخ جابر دسمبر 1977 سے کویت کے امیر چلے آ رہے تھے۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور 2001 کے دل کے دورہ کے بعد سے عوامی سطع پر کم ہی دیکھے گئے۔ ان کے انتقال سے متعلق بیان کویت کے سرکاری ٹیلی ویژن پر پڑھ کر سنایا گیا۔ حالیہ سالوں میں کویت کی قیادت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ کویت کے ولی عہد کی عمر بھی ستر سال سے زیادہ ہے اور ان کی صحت بھی خراب بتائی جاتی ہے۔ امیر کی وفات کے موقع پر کویت میں چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ سرکاری دفاتر تین روز تک بند رہیں گے۔ شیخ جابر سن انیس سو پینسٹھ سے اٹھہتر تک ملک کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ وہ سن انیس سو چھیاسٹھ سے دسمبر 1977 تک ملک کے ولی عہد رہے۔ وہ کویت کی دو سو پینتالیس سالہ تاریخ میں تیرہویں فرمانروا ہیں۔ ان پر سن 1985 میں ایک قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا ہے لیکن وہ وہ محفوظ رہے۔ اگست 1990 میں عراق کے حملے کے موقع پر وہ ملک سے فرار ہو کر سعودی عرب چلے گئے تھے جہاں انہوں نے ایک جلا وطن حکومت قائم کی تھی۔ تاہم جب اگست 1991 میں اتحادی فوجیوں نے کویت پر سے عراق کا قبضہ ختم کیا تو وہ ملک واپس آ گئے۔ | اسی بارے میں کویت: عورتوں کو حقوق ملیں گے‘08 March, 2005 | آس پاس کویت:عورتوں کو ووٹ کے حق کا بِل17 May, 2004 | آس پاس کویت:4پاکستانیوں کوپھانسی 02 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||