| | سعودی حکومت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 345 ہے |
سعودی عرب کے حکمران شاہ عبداللہ اور ان کی حکومت نے کہا ہے کہ منٰی میں حج کے دوران بھگدڑ میں 362 ہلاکتیں ’غیرذمہ دار‘ حاجیوں کی وجہ سے پیش آئیں جو بھاری بھاری سامان ساتھ لیکر منٰی میں شیطان کو کنکریاں مارنے پہہنچے۔ جمعرات کے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں پینتیس پاکستانی اور اٹھائیس بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک سو افراد صرف مصر سے ہیں جبکہ چین، انڈونیشیا اور فرانس کے شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس حجاج کرام کو بھگدڑ سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کم از کم تین سو پینتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی لیکن ہلاکتوں کی تعداد اب بڑھ کر 362 ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مجمع کو کنٹرول کرنے کے لیے سختی کی جاتی تو مزید ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔ منصور الترکی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بھگدڑ کی وجہ یہ تھی کہ بسوں پر سے سامان اور تھیلے گرتے چلے گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حاجیوں کا ہجوم منٰی کی طرف شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے بڑھ رہا تھا۔
 | | | ماضی میں بھی منیٰ میں اس طرح کے حادثات پیش آتے رہے ہیں۔ |
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سعودی سکیورٹی سروسز کی جانب سے کنٹرول کا کوئی نظام وہاں نہیں تھا اور لوگوں کا ہجوم چاروں طرف سے وہاں اکٹھا ہورہا تھا۔ حاجی ہاتھ میں ہاتھ ملا کر اس مقام کی جانب گروہوں کی شکل میں بڑھتے تھے جہاں شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔لیکن سعودی ولئ عہد سلطان بن عبدالعزیز نے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ صرف بارہ حاجیوں کی وجہ سے ہوا جو اپنی پشت پر تھیلے اور سامان لیکر کنکریاں مارنے پہنچے اور جب ہجوم بڑھ گیا تو وہ ایک دوسرے کے اوپر گرنا شروع ہوگئے۔ ماضی میں بھی منیٰ میں اس طرح کے حادثات پیش آتے رہے ہیں۔ انیس سو نوے میں ایک بھگدڑ کے دوران چودہ سو سے زائد حاجی ہلاک ہوگئے تھے۔ سن دوہزار چار میں ڈھائی سو اور دوہزار تین میں چودہ حاجی ہلاک ہوئے تھے۔ |