BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 January, 2006, 19:45 GMT 00:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حج میں بھگدڑ کا آنکھوں دیکھا حال
حج میں بھگدڑ سے زخمی ہونے والے
حج میں بھگدڑ سے زخمی ہونے والے

سعودی عرب میں حج کے دوران بھگدڑ سے کم از کم تین سو پینتالیس حجاج ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر موجود عینی شاہدین نے حادثے کی روداد یوں بیان کی:

سواد ابو حمادہ
میں نے چیخوں کی آواز سن کر ادھر ادھر دیکھا تو لوگ ایک دوسرے پر چھلانگیں لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔ لاشوں کا ڈھیر لگتا جا رہا تھا۔ میں انہیں گن نہیں سکتا تھا، وہ بہت زیادہ تھیں۔

امر گاد، مصر
جو لوگ ہلاک ہوئے وہ کنکریاں مارنے کے لیے پل پر جانے کی کوشش میں تھے۔ لیکن لوگوں کی ایک اور لہر دوسری جانب سے ان لوگوں کی آئی جو پل سے اترنا چاہ رہے تھے، اس طرح یہ لوگ ہلاک ہوئے۔

منصور الترکی، ترجمان سعودی وزارت داخلہ
اس کی وجہ ایک ٹرک سے گرنے والا سامان تھا اور اسکے علاوہ بہت سے حجاج کا بعد دوپہر رمی کرنے کا اصرار بھی بہت زیادہ رش کا باعث بنا۔ اس کے نتیجے میں حجاج ایک دوسرے کے اوپر گر گئے۔ یہ واقعہ جمرات کے مشرقی حصے میں پیش آیا۔

حماد بن عبداللہ، سعودی وزیر صحت
یہ واقعہ حجاج کی بدنظمی اور سامان کے گرنے کے باعث پیش آیا۔

ترجمان منیٰ جنرل ہسپتال
ہمیں تقریباً چھ سو متاثرین موصول ہوئے جن میں سے بہت سے مختلف ہسپتالوں میں بھیج دیے گئے۔ بہت سی لاشیں جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے باشندوں کی تھیں۔

خالد یٰسین، سربراہ ریسکیو آپریشن
فوری طور پر ستر ایمبولینسیں جائے حادثہ کی طرف روانہ کر دی گئیں اور مکہ کے سات طبی مراکز میں متاثرین کا علاج کیا گیا۔ متاثرین کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے نکالنا ناممکن تھا کیونکہ ہجوم بہت زیادہ تھا۔

نام نامعلوم، شہریت مصر
جونہی ہم کنکریاں مارنے لگے تو ہم نے دیکھا کہ حجاج کا ایک بہت بڑا مجمع نیچے گر کر دوسرے ہزاروں لوگوں کے تلے کچلا جا رہا ہے۔

قطب متوالی، مصر
منیٰ ہسپتال میں ایک زخمی شخص خون آلود رسی ہاتھ میں تھامے رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یہ میری بیوی کا خون ہے جو میرے ہاتھوں میں شہید کی موت مر گئی۔ ہم پل کی جانب جا رہے تھے جب ہم نے دیکھا کہ سامان کی گٹھریاں لوگوں پر آ گریں جس سے وہ نیچے گر گئے اور پھر ہمیں عورتوں اور بوڑھوں کی چیخیں سنائی دیں۔

ایک اور عینی شاہد کے مطابق میں نے لاشوں سے بھرا ایک ٹرک دیکھا ہے اس لیے مرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

بھارتی وزیر مملکت برائے امور خارجہ ای احمد نے کہا ہے کہ اس حادثے میں چھ بھارتی شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے جن میں دو مرد اور چار خواتین ہیں۔

سعودی عرب میں بھارت کے کونسل جنرل اوصاف سعید نے کہا ہے کہ زخمی ہونے والے پچیس بھارتی شہریوں میں سے سترہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ باقی سات منیٰ کے ہسپتال میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد