ہلاک شدگان میں 35 پاکستانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منیٰ میں جمعرات کے روز حج کے دوران بھگدڑ میں کم از کم تین سو پینتالیس افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ بھگدڑ کا یہ واقعہ شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران پیش آیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 35 پاکستانی اور اٹھائیس بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا پاکستانی اہلکار ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں جاکر ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد پینتس تک ہوسکتی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پاکستان کے وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان سعودی حکام سے رابطے میں ہے اور مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پاکستان سے اس سال ڈیڑھ لاکھ اور ہندوستان سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد حج کے لیے مکہ گئے ہیں۔ بھگدڑ میں کئی لوگوں کے اپنے رشتہ داروں سے بچھڑ جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ جدہ میں بھارتی قونصلیٹ نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے اٹھائیس بھارتیوں میں سولہ خواتین بھی شامل ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس حجاج کرام کو بھگدڑ سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کم از کم تین سو پینتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجمع کو کنٹرول کرنے کے لیے سختی کی جاتی تو مزید ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔ منیٰ سے بی بی سی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ درجنوں لاشیں سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ہیں۔ ماضی میں بھی حج کے اس مرحلے پر بھگدڑ کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ منصور الترکی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بھگدڑ کی وجہ یہ تھی کہ بسوں پر سے سامان اور تھیلے گرتے چلے گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حاجیوں کا ہجوم منٰی کی طرف شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے بڑھ رہا تھا۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سعودی سکیورٹی سروسز کی جانب سے کنٹرول کا کوئی نظام وہاں نہیں تھا اور لوگوں کا ہجوم چاروں طرف سے وہاں اکٹھا ہورہا تھا۔ حاجی ہاتھ میں ہاتھ ملا کر اس مقام کی جانب گروہوں کی شکل میں بڑھتے تھے جہاں شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ سن دوہزار چار میں ایک بھگدڑ کے دوران دو سو حجاج کی ہلاکت کے بعد سعودی حکام نے وہاں رکاوٹیں کھڑی کر کے ہجوم کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ رمی کے ستونوں کو بھی بڑا کیا گیا تاکہ ہجوم کے بہاؤ میں آسانی ہو۔ خیال ہے کہ اس موقع پر بیس لاکھ سے زائد حجاج موجود تھے۔ ایک عینی شاہد عبداللہ نے بتایا ہے کہ ’میں نے لوگوں کو چلتے ہوئے دیکھا اور ایک دم چیخ و پکار کی آواز سنائی دی۔ لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور ایک دوسرے کو اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے‘۔ پولیس کی گاڑیوں اور ایمبولینسوں نے فوری طور پر جائے وقوعہ سے لاشوں اور زخمیوں کی منتقلی شروع کر دی اور لوگوں کو اس جگہ سے ہٹانا شروع کر دیا۔ یہ حجاج طواف وداع کے بعد شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے آئے تھے۔ حج کے دوران یہ موقع سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس مقام پر لوگ نشانہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس عمل میں کمزور افراد ہجوم کی دھکم پیل سے گر کر کچلے جاتے ہیں۔ تین سال قبل اس جگہ پر دو سو حجاج ہلاک ہو گئے تھے۔ چند روز پہلے عازمین حج کی ایک رہائشی عمارت گرنے سے ستر عازمین ہلاک ہو گئے تھے۔ |
اسی بارے میں حج: سخت حفاظتی انتظامات28 January, 2004 | آس پاس حج پر سخت حفاظتی انتظامات 16 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||