چیچنیا: کثرت الازواج کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیچنیا کے قائم مقام وزیراعظم رمضان قدیروف نے تجویز دی ہے کہ جنگ کے دوران بہت زیادہ تعداد میں مردوں کی ہلاکت کی وجہ سے ایک سے زیادہ شادیوں کی قانونی اجازت ہونی چاہیے۔ روسی ریڈیو پر گفتگو کرتے ہوئے روس نواز رہنما نے کہا ہے کہ ’یہ چیچنیا کے لیے ضروری ہے کیونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہمارے یہاں مردوں کی تعداد عورتوں کی نسبت کم ہے‘۔ ان کی اس تجویز کی حمایت پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر ولاڈیمیر زیرینووسکی نے بھی کی ہے۔ روسی قانون میں صرف ایک شادی کی اجازت ہے لیکن اسلامی قانون میں ایک مرد کو چار عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے۔ رمضان قدیروف نے کہا ہے کہ عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت دس فیصد زیادہ ہے اور مردوں کو حکومت کی مداخلت کے بغیر اپنے لیے عورتوں کا انتخاب کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہر شخص یہ فیصلہ خود کرتا ہے کہ اسے زندگی کیسے گزارنی ہے۔ وہ مالک ہے اور وہی فیصلہ کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسکی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے‘۔ زیرینووسکی نے جن کا تعلق جدت پسند لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے کہا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت پورے روس میں ہونی چاہیے کیونکہ ’ہمارے یہاں ایک کروڑ غیر شادی شدہ خواتین ہیں‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں قانون میں اس ترمیم کو متعارف کروائیں گے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||