شیخ سعد دستبردار ہونے پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت میں شیخ سعد العبداللہ نئے امیر بننے کے حق سے دستبردار ہونے پر رضا مند ہو گئے ہیں جس سے کویت میں نئے امیر کی تقرری پر پیدا ہونے والا سیاسی اور آئینی بحران ختم ہو گیا ہے۔ شیخ سعد العبداللہ جن کو پندرہ جنوری کو نیا امیر مقرر کرنے کااعلان کیا گیا تھا ناسازئی طبع کے باعث شیخ سعد الاحمد الصباح کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں سرکاری طور پر کوئی باضابط اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم فرانسیسی خبررساں ادارے نے ایک اعلی حکومتی عہدے دار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امیر کی دستبرداری کا معاملہ طے پاگیا ہے۔ یہ فیصلہ شیخ صباح اور شیخ سالم العلی الصباح جو کے امیر کے رشتے کے بھائی ہیں اور ان کے حمائتی بھی ہیں کے درمیان ملاقات کے دوران کیا گیا۔
آئینی طریقے کار کے مطابق کابینہ کی طرف سے نئے امیر کو ہٹائے جانے کی تجویز دیے جانے پر کویتی پارلیمان کو دو تہائی اکثریت سے فیصلہ کرنا تھا۔ کویت میں اب تک پارلیمان کی طرف سے امیر کو ہٹائے جانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ شیخ سعدالعبداللہ کو امیر کویت شیخ جابر الصباح کے انتقال کے بعد نیا امیر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پچہتر سالہ شیخ سعد العبداللہ ناسازئی طبع کی وجہ سے نئے امیر کا حلف اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔ سعدالعبداللہ کی تقرری سے شدید آئینی کشمکش پیدا ہو گئی تھی اور اس معاملے پر حکمران صباح خاندان میں بھی اختلاف پیدا ہوگئے تھے۔ شیخ سعد العبداللہ کی دستبرداری کے بعد وزیر اعظم شیخ صباح الاحمد الصباح کے امیر بننے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ شیخ سعد العبداللہ کی دستبرداری کا معاملہ کویتی پارلیمان کے اجلاس سے تھوڑی دیر پہلے طے کیا گیا جس میں کویتی پارلیمان شیخ سعد کو ہٹانے کے لیے آئینی اقدام اٹھانے پر غور کرنے والی تھی۔ شیخ سعدد العبداللہ امیر کویت شیخ جابر کے بہت عرصے سے جانشیں تھے۔ | اسی بارے میں امیر کویت کی آخری رسومات15 January, 2006 | آس پاس کویت کے امیر انتقال کر گئے15 January, 2006 | آس پاس نئے امیر کی تقرری پراختلافات23 January, 2006 | آس پاس کویت: شیخ جابر کی اصلاحات خطرے میں23 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||