کویت: شیخ جابر کی اصلاحات خطرے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت کے امیر شیخ جابر الاحمد کی وفات کے بعد ملک میں سرکاری طور پر چالیس روزہ سوگ منایا جارہا ہے جبکہ کویتی پارلیمان نے خرابی صحت کی بنیاد پر نئے امیر کی تقرری کے خلاف دو تہائی اکثریت سے فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کویت میں اس اقدام کے لیے آئینی طریقہ کار استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کویت میں پارلیمان کی طرف سے امیر کو ہٹائے جانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ شیخ سعد العبداللہ کو دس روز قبل امیر کویت شیخ جابر الصباح کے انتقال کے بعد نیا امیر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پچھہتر سالہ شیخ سعد العبداللہ ناسازئی طبع کی وجہ سے نئے امیر کا حلف اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔ سعد العبداللہ کی تقرری سے شدید آئینی کشمکش پیدا ہو گئی تھی اور اس معاملے پر حکمران صباح خاندان میں بھی اختلاف پیدا ہوگئے تھے۔ اب نئے امیر کے انتخاب تک ملک کا انتظام کابینہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ توقع ہے کہ موجودہ وزیر اعظم شیخ صباح الاحمد الصباح کو نیا امیر چنا جائے گا۔ کویت میں شیخ جابر کی نافذ کی ہوئی اصلاحات کو روایتی سخت گیر حلقوں کی جانب سے درپیش خطرے کا جائزہ لیتے ہوئے بی بی سی کے تجزیہ کار جوناتھن فرائر نے کویت کے موجودہ حالات پر ایک نظر ڈالی ہے۔ شیخ جابر تقریباً تیس برس تک دنیا کے اس چھوٹے مگر امیر ملک کے صدر رہے۔ کویت کی آبادی دو ملین ہے جبکہ تیل کی پیداوار کے لحاظ سے یہ دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تیل نکالنے کے لیے بھی کویت میں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں، یہ قدرتی انداز میں ہی ایسے مقامات پر موجود ہے کہ باآسانی نکال لیا جاتا ہے۔ چونکہ تیل کے کنویں اونچائی پر واقع ہیں اس لیے یہ آسانی کے ساتھ پائپوں کے ذریعے ڈھلوان سے نیچے ریفائنری تک پہنچایا جاتا ہے۔ بے شک کویتی باقاعدگی سے اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ صرف ستر برس پہلے یہ دنیا کا غریب ترین ملک تھا۔تقریباً گزشتہ دو صدیوں سے یہاں کا ذریعہ آمدن سمندر میں سچے موتیوں کی تلاش تھی۔ مزید یہ کہ شدید گرمی کے موسم نے اس ملک کو مزید غیر دوستانہ بنادیا تھا لیکن تیل کی دریافت نے کایا ہی پلٹ ڈالی۔ ستر کی دہائی سے کویت کی معیشت نے پھلنا پھولنا شروع کیا۔ اب کویت کا دارالحکومت کویت سٹی ایک جدید ترین شہر ہے جہاں جدید شاپنگ مالز کے علاوہ دس بڑی شاہراہیں بنائی گئی ہیں۔
انیس سو نوے میں صدام نے کویت کو عراق میں ضم کرنے کی غرض سے اپنی فوجوں کے ساتھ یہاں چڑھائی کردی تھی۔ شیخ جابر کو سعودی عرب پہنچادیا گیا۔ عراقیوں نے یہاں کافی لوٹ مار کی اور کئی تیل کے کنوؤں کو آگ لگادی۔ جس کے بعد امریکی سربراہی میں افواج نے کویت کا دفاع کیا اور ملک کی بحالی میں مدد کی۔ شیخ جابر بھی وطن واپس لوٹ آئے۔ یہی وہ وقت تھا جب ملک میں جمہوری نظام نے اپنا اثر کھونا شروع کیا۔ صرف مردوں پر مشتمل کویتی پارلیمان نے خواتین کے ووٹ کے حق کے خیال کو رد کردیا۔ خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کویت کی جدیدیت کی نفی کرتا ہے۔ ملک میں دو ہی با اثر حلقے ہیں۔ روایت پسند اور جدت پسند اور ان میں سے روایت پسند سخت گیر حلقے کو پارلیمان میں واضح نمائندگی حاصل ہے۔ یہاں برسوں پہلے شراب پر پابندی عائد کردی گئی تھی کیونکہ یہ اسلام کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ حال ہی میں لائیو میوزک بھی پابندی کی زد میں آگیا ہے۔یہاں کوئی نائٹ کلب بھی نہیں اور غیر مردو عورت کے میل جول کو سخت گیر اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ کویت میں لڑکوں لڑکیوں کی واحد قابل قبول ملاقات کی صورت سٹاربکس کافی یا پیزا شاپ میں ملنا جلنا ہے۔ کچھ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں انہیں الجھن کا شکار کررہی ہیں جبکہ آزاد خیال اور امیر طبقے کے لوگ اپنی رنگ رلیوں کے لیے خلیج کے آزاد خیال ممالک مثلاً دبئی یا پھی لندن وغیرہ جاکر اپنے شوق پورے کرتے ہیں۔
کویت میں نوجوانوں کو زیادہ رفتار پر گاڑیاں چلانے کی عادت ہے۔ شام میں وہ گھنٹوں خوفناک حد تک تیز رفتار گاڈی چلاکر اس شوق سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہاں اس شوق کو ایک کھیل کا درجہ حاصل ہے۔ اس شوق کے باعث ظاہر ہے کہ یہاں حادثات بھی خوب ہوتے ہیں مگر ایک نوجوان کا خیال ہے کہ کم از کم اس طرح انہیں مزید جدید گاڑی خریدنے کا بہانہ ہی مل جاتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہاں بسوں پر سفر کیا لیکن مقامیوں کا خیال ہے کہ بسیں صرف ان انڈین نژاد افراد کے لیے موزوں ہیں جو یہاں کام کے لیے آتے ہیں یا پھر وہ کویتی طلبا جو ابھی ڈرائیو کرنے کی عمر تک نہیں پہنچے ہیں۔ یہ طلباء اس قدر بدتمیز ہیں کہ اپنے رویہ میں یہ اکثر بگڑے ہوئے برطانوی طلباء کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔یہ بسوں میں چھلانگیں لگاتے ہیں، کھڑکیوں سے باہر لٹکتے ہیں اور انڈین افراد کا مذاق اڑاتےہیں۔ یہ انڈین افراد ان بچوں کی بدتمیزی پر کچھ بولنے سے بھی ڈرتے ہیں اور خاموش رہنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ نامہ نگار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک بس پر سوار تھا۔ ڈرائیور نے ایسے ہی چند طلباء کو اتارا اور بس آگے بڑھادی۔ اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ ان بچوں نے کھڑکیوں پر پتھروں کی بوچھاڑ کردی تھی اور وہ ایک شیشہ کرچی کرچی ہوگیا۔ ’ہم سب کو شیشوں کے ٹکڑے لگے‘۔ | اسی بارے میں نئے امیر کی تقرری پراختلافات23 January, 2006 | آس پاس امیر کویت کی آخری رسومات15 January, 2006 | آس پاس کویت کے امیر انتقال کر گئے15 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||