نئے امیر کی تقرری پراختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت میں نئے امیر کی تقرری کے مسئلے پر آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے اور حکمران صباح خاندان کے دو دھڑے ایک دوسرے کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ کویتی کابینہ نے پارلیمان سے کہا ہے کہ نئے امیر کی ناسازئی طبع کے باعث ان کی تبدیلی کی حمایت کرے جبکہ نامزد امیر شیخ سعد العبداللہ الصباح کے حامیوں نے ان سے پارلیمان کے اجلاس سے قبل ہی حلف اٹھانے کی درخواست کی ہے۔ پالریمان کے سپیکر نے سعدالصباح کے حامیوں کی اس کوشش کو رد کر دیا ہے اور اب پارلیمان منگل کو ووٹ کے ذریعے امیر کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔ آئینی لحاظ سے جب بھی کابینہ کی جانب سے امیر کو برخواست کرنے کے لیے درخواست کی جائے تو اس کی منظوری کے لیے پارلیمان کے دو تہائی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کویتی پارلیمان کویت کے نئے امیر کو ووٹ کے ذریعے امارت سے محروم کرتی ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی کویتی حکمران پارلیمان کے فیصلے کے بعد اقتدار چھوڑے گا۔ یاد رہے کہ چھہتر سالہ امیر نے گزشتہ اتوار شیخ جابر بن احمد الصباح کی وفات کے بعد عنان اقتدار سنبھالی تھی۔ وہ ولی عہد ہونے کے باوجود خرابی صحت کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے عوامی زندگی سے دور رہے ہیں۔ شیخ سعد امیر کے عہدے کا حلف اٹھانا چاہتے ہیں لیکن ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ پارلیمان میں کھڑے ہوکر حلف اٹھا سکیں کجا یہ کہ وہ ملک کی قیادت کریں اور اقتدار کا بوجھ اٹھائیں۔ ہفتے کو کابینہ نے درخواست کی تھی کہ ان کا طبی معائنہ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ وہ اس قابل بھی ہیں کہ حلف اٹھاسکیں۔ شیخ سعد نے ابھی تک اپنا نائب یا ولی عہد بھی نامزد نہیں کیا جس وجہ سے ان کے وارث کے بارے میں بھی ابہام بڑھتے جارہے ہیں۔ | اسی بارے میں امیر کویت کی آخری رسومات15 January, 2006 | آس پاس کویت کے امیر انتقال کر گئے15 January, 2006 | آس پاس کویت: القاعدہ سے تعلقات، سزائے موت27 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||