BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 June, 2006, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی فوجیوں کی لاشیں برآمد
رمادی
دونوں امریکی فوجیوں کا تعلق 101 ایئر بورن ڈویژن سے ہے
امریکی فوجی حکام کے مطابق جمعہ کو لاپتہ ہونے والے دو امریکی فوجیوں کی لاشیں بغداد کے جنوبی علاقے سے برآمد ہوگئی ہیں۔

یہ لاشیں پیر کو یوسفیہ کے علاقے سے ملی ہیں۔ عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات ہیں۔

مزاحمت کاروں کے گروہ نے، جنہوں نے ایک روز پہلے دعوٰی کیا تھا کہ جمعہ سے لاپتہ ہونے والے دو امریکی فوجی ان کے قبضے میں ہیں، اب کہا ہے کہ انہوں نے ان فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

انٹرنیٹ کی ایک ویب سائٹ پر جاری کردی بیان میں القاعدہ سے منسلک ’مجاہدین شورہ کونسل‘ نامی تنظیم نے کہا تھا کہ ان فوجیوں کو یوسفیہ کے نزدیک سے اغوا کیا گیا تھا۔

امریکی فوج نے غائب ہوجانے والے فوجیوں کے نام کرسٹین مینچاکا اور تھامس ٹکر بتائے تھے اور ان دونوں امریکی فوجیوں کا تعلق 101 ایئر بورن ڈویژن سے تھا۔

ایک اور امریکی فوجی ڈیوڈ بابینیو کو ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔

عراق میں امریکی فوج کے ترجمان میجر جنرل ولیم کالڈویل نے کہا ہے کہ دونوں فوجیوں کی لاشیں منگل کی شام امریکی فوج کو ملی تھیں۔ ان کا کہنا ہے ’یہ دونوں لاشیں گمشدہ امریکی فوجیوں کی ہی ہیں اور انہیں مزید شناخت کے لیئے امریکہ بھیج دیا جائے گا‘۔

 ابو حمزہ المہاجر نے شرعی قوانین کے تحت دونوں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔
مجاہدین شورہ کونسل

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کی موت کی وجہ بیان کرنا ناممکن ہے۔

تاہم عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل عبدالعزیز محمد کا کہنا ہے کہ دونوں فوجیوں پر نہایت بیہمانہ طریقےسے تشدد کیا گیا ہے۔

اتحادی فوجی گمشدہ امریکی فوجیوں کی تلاش کے لیئے بڑا آپریشن کررہے تھے۔ جنرل کالڈویل نے کہا ہے کہ ان فوجیوں پر بیتنے والے واقعات کی تفصیل جلد ہی جاری کردی جائے گی۔

ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہل خانہ نہایت مشتعل ہیں۔ کرسٹن مینچاکا کے انکل کین مکینزی نے امریکی ٹی وی پر کہا ہے کہ ’امریکی فوج کی کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں تھی جس کی سزا میرے بھتیجے کو بھگتنی پڑی۔ اس نے اپنی زندگی کی صورت میں اس کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے‘۔

’مجاہدین شورہ کونسل‘ نے انٹرنیٹ پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ان فوجیوں کے گلے کاٹ کر انہیں ہلاک کیا ہے۔

ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

تنظیم نے بیان میں القاعدہ کے نئے رہنما ابو حمزہ المہا جر کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے شرعی قوانین کے تحت دونوں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔

منگل کو ایک بیان میں جنرل کالڈ ویل نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے یوسفیہ پر حملے میں زرقاوی کے ’اہم ترین ساتھی‘ کو ہلاک کردیا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے امریکی فوجیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بغداد میں ایک بم حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
رمادی مزاحمت کاروں کے پاس
09 November, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد