BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 June, 2006, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رمادی کے باہر ہزاروں فوجی تعینات
رمادی
رمادی کے کچھ علاقے ’اتحادی فوج‘ کے کنٹرول سے باہر ہیں
ہزاروں امریکی اور عراقی فوجیوں بغداد کے مغرب میں رمادی شہر کے باہر ناکے قائم کر لیئے ہیں۔ شہر کے جنوبی حصہ میں ان فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد مزاحمت کاروں کو رسد کی فراہمی روکنا ہے۔

نئی چوکیوں کے قیام سے عراقی فوج کو شہر میں گشت کرنے میں تحفظ ملےگا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ابھی شہر میں داخل ہونے والے راستے امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوج کے کنٹرول میں نہیں ہے اور ان چوکیوں کے قیام کے بعد یہ فوجی ان راستوں پر نظر رکھ سکیں گے۔

امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ناکوں کا قیام کسی بڑے حملے کی تیاری کے سلسلے میں نہیں کیا گیا۔ تاہم بہت سے لوگ شہر چھوڑ گئے ہیں جبکہ ان کو ایسا کرنے سے منع کیا جا رہا ہے۔ شہر میں بم حملے اور مسلح جھڑپیں روز کا معمول بن چکا ہے۔

بغداد
بغداد میں مسلح افراد نے ایک بیکری کے دس افراد کو اغوا کر لیا ہے۔ ایک اور واقعے میں شہر کی ایک مصروف شاہراہ پر مارٹر کےحملے میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ انہیں شہر کے مختلف حِصّوں سے دس لاشیں ملی ہیں جن پر تشدد کے نشانات ہیں اور ان لوگوں کو گولی بھی ماری گئی۔

ان واقعات سے ایک روز قبل بغداد میں تشدد کے مختلف واقعات میں اکتالیس لوگ ہلاک اور ایک سو زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

عراق میں تشدد کے واقعات روکنے کے لیئے حکومت نے گزشتہ ہفتے نئے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں
رمادی مزاحمت کاروں کے پاس
09 November, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد