7 طالبان، 4 اہلکار اور 3 شہری ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر قندھار نے کہا ہے کہ قندھار میں ہونے والے مزید تشدد میں سات طالبان اور چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ قندھار میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم چار شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ لیکن اب بی بی سی کی نامہ نگار نے جو خود بھی قافلے میں شریک تھے بتایا ہے کہ تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ بی بی سی کے نمائندے پاؤل ووڈ کا کہنا ہے کہ حملہ آور کینیڈین فوجیوں کے قافلے سے ٹکرایا۔ تاہم دھماکے کا اثر ان شہریوں پر پڑا جوگورنر قندھار کو دیکھنے کے لیئے جمع تھے۔ فوجی قافلے میں شامل کینیڈین فوجی اورگورنر قندھار کے قافلے کے افراد اس دھماکے میں محفوظ رہے۔ دھماکے کی جگہ پر ایک خودکش حملہ آور کی سوختہ لاش اور ایک کالے رنگ کی گاڑی کا ڈھانچہ دیکھا جا سکتا ہے۔ دھماکے سے علاقے کی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور ایک دکان مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ پہلے کہا گیا تھا کہ اس حملے کا نشانہ قندھار کے گورنر اسد اللہ خالد تھے۔گورنر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’ اس حملے کا نشانہ گورنر قندھار تھے‘۔ تاہم خود گورنر کا کہنا ہے کہ ’یہ دھماکہ ہمارے قافلے اور اتحادی فوج کے قافلے کے درمیان ہوا۔ حملہ آور نے ہمارے پاس سے گزرنا چاہا اور ہم نے اسے راستہ دیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ حملے کا نشانہ میں نہیں بلکہ اتحادی فوج کا قافلہ تھا‘۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ قندھار کے سٹی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے میں چار افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان میں سنہ 2001 میں امریکی فوج کی آمد کے بعد سے خودکش حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: جھڑپ میں ’طالبان‘ ہلاک 03 June, 2006 | آس پاس تازہ جھڑپ میں 24 طالبان ہلاک24 May, 2006 | آس پاس ہلمند میں تازہ حملے، مزید ہلاکتیں23 May, 2006 | آس پاس افغانستان: 16 فوجی 200 مخالف ہلاک21 May, 2006 | آس پاس افغانستان: لڑائی جاری، 63 ہلاک18 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||