ہلمند میں تازہ حملے، مزید ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان جنگجوؤں کے ایک حملے میں کم از کم تین افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب طالبان عسکریت پسندوں نے پولیس کے ایک قافلے پر حملہ کیا۔ ہلمند میں برطانوی فوجیوں نے بھی وہاں تعیناتی کے بعد طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ کی ہے۔ واردک میں ایک علیحدہ واقعے میں تین افغان ہیلتھ ورکر اور ایک ڈرائیور بم کے حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت پر کیے گئے ہیں جب ایک ہی روز قبل ہونے والے واقعات میں 80 کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ 80 افراد قندہار میں امریکی فوج کی سربراہی میں کیئے گئے بم حملے میں ہلاک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے شمالی ہلمند میں ایک سرکاری قافلے پر حملہ کیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس حملے میں حملہ آوروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کابل کے مغرب میں دوسرے حملے میں ایک خاتون ہیلتھ ورکر، ان کے دو ساتھی اور ڈرائیور واردک میں بم حملے میں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ہلمند صوبے میں برطانوی فوج نے اپنی تعیناتی کے بعد پہلی مرتبہ طالبان کے خلاف حملے میں اپاچی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا ہے۔ صوبے میں دوہزار سے زائد برطانوی فوجی تعینات کیئے گئے ہیں۔ یہ صوبہ ملک کی منشیات کی تجارت کے لیئے بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اتحادی فوج نے یہ حملہ صوبہ قندھار میں پنجوئی گاؤں پر کیا تھا۔ افغان ذرائع کی اطلاعات کے مطابق اس میں 60 کے قریب طالبان اور 16 عام شہری ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہری علاقوں میں چھپ گئے تھے۔ | اسی بارے میں قصور طالبان کا تھا: امریکی فوج22 May, 2006 | آس پاس افغانستان: 16 فوجی 200 مخالف ہلاک21 May, 2006 | آس پاس افغانستان: امریکی فوجی مارا گیا20 May, 2006 | آس پاس افغانستان: سینیئر جج ہلاک03 May, 2006 | آس پاس طالبان: زابل میں مسلح جھڑپیں 16 April, 2006 | آس پاس طالبان: قندھار کے اطراف میں لڑائی15 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||