اسرائیلی کابینہ کی حلف برداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں ایہود المرت کی قیادت میں نئی مخلوط حکومت نے پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا ہے۔ قدیمہ جماعت کے سربراہ اور اسرائیل کے نئے وزیرِ اعظم ایہود المرت نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح اسرائیل کے لیئے مستقل سرحدوں کا تعین کرنا ہے چاہے اس کے لیئے انہیں فلسطینیوں کے ساتھ مذاکارت کرنے پڑیں یا پھر اس کے بغیر ہی۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایہود المرت کے لیئے وزیرِ اعظم بننا ایسا ہی ہے جیسا کہ بچپن کا کوئی خواب پورا ہو جائے۔ لیکن آگے ان کے لیئے آسان راستہ نہیں ہے۔ اسرائیل کے لیئے مستقل سرحدوں کا ان کا منصوبہ ایک متنازعہ منصوبہ ہے۔ کچھ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں لیکن ملک کے اندر اور باہر کئی ایک ایسے ہیں جو اس پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کے منصوبے میں غربِ اردن میں کچھ یہودی بستیاں خالی کرنا جبکہ وہیں پر دیگر بڑی بستیوں کو اسرائیل میں شامل کرنا شامل ہے۔ اس کے لیئے انہیں اسرائیلی معاشرے، بین الاقوامی برادری اور اپنی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔ ابھی نئی اسرائیلی حکومت بنی ہی ہے کہ اس میں شامل دائیں بازو کی کٹر قوم پرست شاتھ پارٹی نے الگ ہونے کی دھمکی دے دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ غربِ اردن میں فلسطینی علاقوں کو یکطرفہ طور پر خالی کرنے کا منصوبہ اس کے لیئے ناقابلِ قبول ہے۔ | اسی بارے میں مرضی کی سرحد بنائیں گے:اولمرت04 May, 2006 | آس پاس تل ابیب: سخت اسرائیلی ردِ عمل18 April, 2006 | آس پاس اسرائیل: مخلوط حکومتی مذاکرات 10 April, 2006 | آس پاس اسرائیلی سرحد کا تعین ہوگا:اولمرت29 March, 2006 | آس پاس اسرائیل: ووٹ ڈالنے کا تناسب کم28 March, 2006 | آس پاس اسرائیل: سرحد کے لیئے امریکی مشورہ 26 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||