BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 April, 2006, 10:21 GMT 15:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا، چالیس ہزار افراد بے گھر
ان حملوں میں بہت سے شہری زخمی ہوئے ہیں
تامل باغیوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر سری لنکا فوج کے فضائی حملوں کے باعث چالیس ہزار افراد علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ان کارروائوں کے نتیجے میں فائر بندی معاہدہ ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لوگ ان حملوں سے بچنے کے لیئے جنگل میں پناہ حاصل کرنے جارہے ہیں۔

مسلح افواج نے مسلسل دوسرے روز بھی ملک کے مشرقی حصے میں تامل باغیوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیئے ہیں۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج نے یہ آپریشن سری لنکا میں منگل کو کولمبو کے فوجی ہیڈ کوارٹر پر خود کش حملے میں آٹھ افراد کی ہلاکت اور فوج کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل سارتھ فونیسکا کے شدید زخمی ہونے کے بعد شروع کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے ترنکوملی کی بندرگاہ پر کھڑے بحریہ کے جہازوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔

بین الاقوامی معائنہ کار صورتحال کا جائزہ لینے کے لیئے کولمبو پہنچ رہے ہیں۔ ٹی وی پر نشر کیئے گئے ایک بیان میں صدر مہندا راجاپاکسے نے کہا ہے کہ حکومت جنگ نہیں چاہتی لیکن ایسے خود کش حملوں سے ہار بھی نہیں مانے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امن قائم کرنے کی حکومتی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

حکومت کی جانب سے تامل باغیوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر حملے، 2002 کے بعد سے پہلا باقاعدہ فوجی آپریشن ہے۔ ایک فوجی ترجمان نے بتایا ہے کہ فوج کی طرف سے جوابی کارروائی بحریہ کی گشتی کشتیوں پر باغیوں کے حملے کے بعد کی گئی ہے۔

باغیوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوجی حملے جاری رہے تو وہ انتقامی کارروائی کریں گے۔

سری لنکا میں حملوں کے بعد سکیورٹی زیادہ تیز کر دی گئی ہے

فوجی حملوں میں ایک شہری کی ہلاکت اور کئی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے تاہم باغیوں کے مطابق کم از کم پندرہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سری لنکا میں تشدد کی لہر میں پھر تیزی آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے تامل باغیوں نے امن مذاکرات سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ملک کے شمالی اور مشرقی حصوں میں پر تشدد کارروائیوں میں زیادہ تر فوجیوں اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات میں ہلاک ہونے والے سو افرادمیں سے ستر فوجی اہلکار تھے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر فوج کی جانب سے فضائی حملے جاری رکھنے کے لیئے شدید دباؤ میں ہیں۔

تامل رہنما ایس ای لی لین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی معائنہ کار یہاں آکر یہ واضح کریں کہ آیا حکومت نے فائربندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باقاعدہ جنگ شروع کردی ہے۔

باغیوں نے فوجی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کی تمام نشانیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ باغیوں کے حملوں کی طرز کا حملہ ہی تھا۔

خیال ہے کہ فوجی ہیڈ کوارٹر پر یہ خودکش حملہ ایک عورت نے کیا ہے جو بظاہر حاملہ لگتی تھی مگر دراصل اس نے اپنے کپڑوں میں اسلحہ چھپا رکھا تھا۔

جولائی 2004 کے بعد سے سری لنکن دارالحکومت میں یہ پہلا خودکش حملہ تھا۔

کولمبو جنرل ہسپتال کے ذرائع کے مطابق فوجی سربراہ اور دس اور زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔ فوجی سربراہ کے پیٹ میں شدید زخم آئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد