غزنی میں شدید جھڑپیں، چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں حکومت مخالف شدت پسندوں اور افغان سکیورٹی فورسز میں شدید جھڑپیں بھڑک اٹھی ہیں جن میں اطلاعات کے مطابق کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئِے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا، جب سکیورٹی فورسز نے غزنی کے صوبے میں ایک گاؤں کو گھیرے میں لے کر اس میں چھپے ہوئے مبینہ طالبان کی تلاش شروع کی۔ ان جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار اور تین طالبان ہلاک ہو گئے۔ غزنی سے مزید جنوب کی طرف قندھار میں ایک امریکی کمپنی کا ایک افغان محافظ کمپنی کے ہیڈ کواٹر پر طالبان کے حملے میں ہلاک ہو گیا۔ کمپنی کا ہیڈ کواٹر اس علاقے کے قریب ہی واقع ہے جہاں سنیچر کو ایک کار بم دھماکے میں کینیڈا سے تعلق رکھنے والے چار فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ تشدد کے یہ واقعات برطانوی وزیر خارجہ کے افغانستان دورے کےدوران ہوئے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کو دوبارہ اثرو رسوخ حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ان کے خلاف عسکری کارروائی جاری رکھنا ہو گی۔ | اسی بارے میں افغانستان: دو بم دھماکے، 11 زخمی09 April, 2006 | آس پاس افغانستان: کلینِک پر حملہ10 April, 2006 | آس پاس افغانستان: حملے میں ’بچے ہلاک‘11 April, 2006 | آس پاس قندھار میں طالبان کی تلاش جاری15 April, 2006 | آس پاس طالبان: قندھار کے اطراف میں لڑائی15 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||