حماس: امریکہ اور یورپ پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس حکومت کی امداد معطل کرنے پر فلسطینی رہنماؤں نے امریکہ اور یورپی یونین پر کڑی تنقید کی ہے۔ فلسطینی وزیراعظم نے اس فیصلے کو جلد بازی اور انتہائی غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کے جمہوری فیصلے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ وہ فلسطین کی حماس حکومت کی براِ راست امداد بند کر دے گا۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو اقوام متحدہ اور دوسرے امدادی اداروں کے ذریعے انسانی بنیادوں پر دی جانے والے امداد کو میں اضافہ کرے گا۔ امریکہ کے اس اعلان سے پہلے جمعہ کو یورپی یونین بھی اعلان کر چکی ہے کہ وہ حماس حکومت کو امداد کی براہ راست ادائیگیاں معطل کر رہی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین چاہتے ہیں کہ حماس حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے، تشدد کی مذمت کرنے اور ماضی میں کیے گئے تمام معاہدوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان سین میکورمک نے اس سلسلسلے میں امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کا ایک تحریری بیان پڑھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’امریکہ فلسطینی حکومت، کابینہ اور وزراء کی کو دے جانے والی امداد بند کر رہا ہے‘۔ اس بیان میں ایک بار پھر اس بات کو دہرایا گیا کہ فلسطین کی حماس حکومت عدم تشدد کی یقین دہانی کرانے، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ماضی میں کیے جانے والے معاہدوں کی پاسداری کرنے کو تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ |
اسی بارے میں فلسطین: یورپ نےامداد روک دی07 April, 2006 | آس پاس یورپین کمیشن کی عارضی امداد27 February, 2006 | آس پاس ’یورپی امداد کا خیر مقدم‘28 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||