’یورپی امداد کا خیر مقدم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینیوں کی عبوری حکومت نے یورپی یونین کا فلسطینیوں کو 140 ملین ڈالر کی امداد دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے بھی اس فیصلے کو سراحتے ہوئے کہا کہ اس فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کی امریکی کوشش کو بھی نا کام بنا دیا گیا ہے۔ فلسطینی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے اس بارے میں اپنے خداشت کا بار بار اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حماس ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ ہے ۔ امریکہ نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس صورتحال میں فلسطینیوں کی امداد روک دی گا۔ یورپی یونین کے اس امدادی پیکیج میں سے فلسطینی انتظامیہ کو صرف 21 ملین ڈالر دیے جائیں گےاور باقی رقم کو اقوام متحدہ پاسماندہ افراد میں تقسیم کرے گی۔ اسرائیل نے یورپی یونین کے فیصلے کی تنقید کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ایک اہلکار نے اسے ایک غلط فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ کچھ ہفتوں میں حماس اقتدار سنبھال لے گی، یورپی یونین کو آخر کیا بتہ ہے کہ یہ پیسہ کن مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔ حماس کا ایک وفد روسی حکومت کے اہلکاروں سے مذاکارت کے لیے جمعہ کو ماسکو جا رہا ہے۔ روس کی اس دعوت سے بھی اسرائیل سخت نا خوش ہے۔ |
اسی بارے میں ’پابندیاں اثرانداز نہیں ہوں گی‘20 February, 2006 | آس پاس غربِ اردن میں چھ فلسطینی ہلاک23 February, 2006 | آس پاس فلسطینی صدر کی استعفی کی دھمکی26 February, 2006 | آس پاس یورپین کمیشن کی عارضی امداد27 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||