جماعت الدعوہ کے رکن کونوسال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں مقیم ایک شخص کو ایک شدت پسند تنظیم کو فنڈز اور ہتھیار فراہم کرنے پر نو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ برطانیہ کے شہر کوونٹری کے اکتیس سالہ محمد اجمل خان نے ایک سماعت کے دوران اس گروپ کے ساتھ منسلک ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ اجمل خان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم گروپ لشکر طیبہ جو کہ اب جماعت الدعوہ کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ سنیئر بروک کی ایک عدالت نے اجمل خان کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایسے مقدمات زیادہ سخت سزائیں دینے کے اختیارات دینے پر غور کرنا چاہیے۔ جن الزامات کا اعتراف اجمل خان نے کہا ہے ان میں زیادہ سے زیادہ چودہ سال کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ لندن کی عدالت کے جسٹس فلفورڈ نے کہا خان اس گروپ میں بااختیار حیثیت حاصل تھی اور ان کو لندن میں جمع کیے گئے کروڑوں پوانڈ کے فنڈ تک دسترس حاصل تھی۔ | اسی بارے میں ’لندن حملے عراق جنگ کا نتیجہ ہیں‘18 July, 2005 | آس پاس لندن حملے: مشتبہ گرفتار تین ہوگئے24 July, 2005 | آس پاس لندن حملے: حامیوں پر بغاوت کے مقدمے07 August, 2005 | آس پاس لندن بمبار کی ویڈیو جاری02 September, 2005 | آس پاس ’سِڈ‘خود کش حملہ آور کیسے بنا؟17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||