عراق میں تشدد، 15 لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام نے بتایا ہے کہ انہیں بغداد میں ایک منی بس سے پندرہ لاشیں ملی ہیں۔ ان افراد کو ہلاک کرنے سے پہلے ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ اس طرح گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بغداد سے قریباً پچاس لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔ یہ پندرہ لاشیں دارالحکومت بغداد سے مغرب میں واقع علاقے خدرہ میں ایک سڑک پر کھڑی بس سے برآمد ہوئی ہیں۔ یہ سڑک عامریہ اور غزالیہ کے علاقوں کے درمیان واقع ہے۔ اسی کے قریبی علاقے میں ایک ہفتے پہلے ایک مِنی بس سے اٹھارہ لاشیں ملی تھیں۔ ان افراد کو بھی تشدد کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ منگل کو برآمد ہونے والی بس پر موجود ان پندرہ افراد کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھےاور ان کے گلے گھونٹ کر انہیں مارا گیا تھا۔ ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ دیگر لاشیں شہر کے شیعہ اور سنی اکثریت والے علاقوں سے ملی ہیں جن میں سے چار بجلی کے تاروں سے لٹکی ہوئی ملی ہیں۔ اتوار کو شیعہ اکثریت والے مشرقی ضلعے میں بم حملے میں پچاس افراد ہلاک اور نوے زخمی ہوگئے تھے۔ شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے پیر کو لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی مہدی فوج کو حکم دیں گے کہ ان حملوں پر جوابی کارروائی نہ کریں۔ لاشیں برآمد ہونے کا یہ تازہ واقعہ منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق پونے دس بجے پیش آیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان فلاح المحمداوی نے کہا ہے پچیس سے چالیس سال کی عمروں تک کے ان افراد کو سر اوع سینے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ ابھی تک ان افراد کو شناخت نہیں کیا جاسکا ہے۔ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد آمیز واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ واقعات گزشتہ ماہ کی بائیس تاریخ کو سمارا میں ایک بم حملے کے بعد سے زور پکڑ گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’عراق: بھڑوں کا چھتہ چھڑ گیا‘08 March, 2006 | آس پاس ’عراق میں واقعی الجھن ہے‘12 March, 2006 | آس پاس عراق: 13 مزاحمت کاروں کو پھانسی10 March, 2006 | آس پاس بغداد پھر بم حملوں کی لپیٹ میں12 March, 2006 | آس پاس ’حملوں کا ذمہ دار ایران ہے‘13 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||