’موساوی کا خواب وائٹ ہاؤس تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے حملوں کے ایک منصوبہ ساز زکریا موساوی کے مقدمے کے دوران بتایا گیا ہے کہ ان کا خواب جہاز کے ذریعے وائٹ ہاؤس کی تباہی تھا جس کا ذکر انہوں نے ایک شدت پسند سے کیا تھا۔ یہ دعویٰ ویڈیو کے ذریعے پیش کی گئی ایک شہادت کے دوران کیا گیا جس میں ایک اسلامی تنظیم کے سابق خزانچی فضی بفانہ نے گواہی دی۔ بفانہ نے کہا کہ موساوی دو ہزار میں کوالالمپور میں ان کے مہمان رہے جنہیں اس وقت وہ ’جان‘ کے نام سے جانتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت موساوی نے ان سے جہاز اڑانے کی تربیت کے لیئے مدد مانگی۔ موساوی گیارہ ستمبر کے حملوں سے کچھ عرصہ پہلے گرفتار کیئے گئے تھے اور انہوں نے سازش کے چھ الزامات میں اپنا جرم قبول کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر حملوں کے بارے میں خاموشی اختیار کیئے رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ حملوں کے منصوبے میں شامل نہیں تھے تاہم وہ وائٹ ہاؤس کو تباہ کرنے کے منصوبے کا حصہ رہے تھے۔ مقدمے کے جج لیون برنکیمہ کا کہنا ہے کہ استغاثہ کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ موساوی کا کوئی فعل گیارہ ستمبر کی ہلاکتوں کا موجب بنا۔ اگر جیوری نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ الزامات درست ہیں تو ان کے لیئے سزائے موت کی سفارش کی جائے گی۔ بدھ کو جیوری کے سامنے ویڈیو دکھائی گئی جس میں گواہ بفانہ نے موساوی کی شناخت کی اور کہا کہ انہوں نے انہیں وائٹ ہاؤس کو تباہ کرنے کی خواہش کے متعلق بتایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موساوی نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے اپنے اس خواب کے متعلق القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو بھی آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ موساوی کے ساتھ ملائشین ایئر فورس کے ایک فلائنگ کلب میں بھی گئے لیکن ان کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ بفانہ کے مطابق اس کے بعد موساوی دھماکہ خیز مواد کی تلاش میں لگ گئے۔ اس کے بعد انہیں پتہ چلا کہ موساوی ملائشیا چھوڑ کر یورپ جا رہے ہیں جہاں ان کے کچھ ’بھائی‘ ان کی مدد کریں گے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ہونے والی تفتیش میں یہ پتہ چلا کہ حملوں کے منصوبہ ساز خالد شیخ نے موساوی کو حکم دیا تھا کہ وہ جہاز اڑانے کی تربیت حاصل کریں لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔
موساوی نے اپنے اقبال جرم میں جن دستاویزات پر دستخط کیئے ہیں ان پر یہ بھی لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن نے ان کا وائٹ ہاؤس پر حملے کا منصوبہ منظور کر لیا تھا اور انہوں نے ایک موقع پر موساوی سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے خواب کو یاد رکھیں۔ بفانہ سے یہ سوالات سیٹلائٹ اپ لنک کے ذریعے کیئے گئے اور اس دوران موساوی نے کئی تکنیکی اعتراضات کیئے جن میں سے بعض کو عدالت نے درست قرار دیا۔ گواہ پر جرح کے دوران انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس مقدمے میں صرف اس لیئے شریک ہیں کہ وہ اپنے اوپر امریکہ میں مقدمہ چلنے کے خدشے سے بچنا چاہتے تھے۔ تاہم انہیں بار بار سوالات کرنے پر جج نے خاموش کروا دیا۔ بعد ازاں جج نے موساوی سے ان کا دفاع کا حق واپس لے لیا۔ سبز رنگ کے لباس میں موساوی نڈھال نظر آ رہے تھے اور ویڈیو پر گواہی دیکھ کر کبھی کبھی اپنے آپ میں مسکرا رہے تھے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چار وقفوں میں انہوں نے امریکہ مخالف نعرے لگائے۔ موساوی کی والدہ بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ موساوی پر چلنے والا یہ مقدمہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے سلسلے میں پہلا مقدمہ ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایف بی آئی کو گیارہ ستمبر کے حملوں سے آگاہ نہیں کیا۔ خیال ہے کہ اگر انہیں سزائے موت نہ بھی دی گئی تو وہ اپنی باقی زندگی قید میں گزاریں گے۔ ورجینیا میں چلنے والا یہ مقدمہ تین مہینے تک چلنے کی توقع ہے۔ |
اسی بارے میں حماس مسلح لڑائی جاری رکھے: ایمن05 March, 2006 | آس پاس ’ گوانتاناموکا قانونی جواز نہیں‘14 February, 2006 | آس پاس القاعدہ کے ارکان کی ہلاکتوں کا امکان24 January, 2006 | آس پاس اسامہ بن لادن کے بعد الظواہری ٹیپ21 January, 2006 | آس پاس بش عراق میں ہار مان لیں: الظواہري 06 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||