BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 March, 2006, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: مغوی افراد کہاں ہیں؟
عراق
ان افراد کو کچھ افراد پولیس کے یونیفارم میں اغواء کرکے لےگئےتھے
عراق میں ایک نجی سکیورٹی ادارے کے سربراہ سمیت اغواء ہونے والے پچاس افراد کی قسمت کے بارے میں عجیب الجھن (کنفیوزن) پیدا ہو گئی ہے۔

ان افراد کو بدھ کو کچھ افراد پولیس کے یونیفارم میں اغواء کرکے لے گئے تھے۔

عراقی وزارت داخلہ کے حکام نے اس معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اس آپریشن کو ’دہشت گردی کے عمل‘ کا نام دیا ہے۔

جمعرات کو حکام نے بتایا کہ سکیورٹی کمپنی ’الرفاوید‘ کے ملازمین کو بغداد کے زیونا علاقے سے اغواء کیا گیا اور وہ اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

اغواء ہونے والے بعض ملازمین صدام دور میں عراقی سکیورٹی فورسز کے افسران رہے ہیں۔

پولیس کمانڈوز کے سربراہ جنرل راشد فلاح نے اس واقعے کے پیچھے فوجی دستوں کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو وزارت داخلہ نے ان افراد کی گرفتاری کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے‘۔

وزارت داخلہ کے نائب وزیر علی غالب کا کہنا ہے کہ حکام اس بارے میں تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بڑے پیمانے پر اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں‘۔

اغواء کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب عراق کے وزیر داخلہ بیان جبر نے ملک میں تیزی سے بڑھتی نجی سکیورٹی کمپنیوں پر کنٹرول سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

 اغواء کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب عراق کے وزیر داخلہ بیان جبر نے ملک میں تیزی سے بڑھتی نجی سکیورٹی کمپنیوں پر کنٹرول سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں

ایک اندازے کے مطابق بغداد میں اس وقت دو سو پچاس سکیورٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

اس بارے میں ایک اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان افراد کے اغواء کے پیچھے کہیں ملک میں سرگرم ملیشیا کا ہاتھ نہ ہو۔

اس سے قبل ایک اور واقعہ میں مغربی بغداد میں ایک منی بس سے اٹھارہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں یا تو گولی مار کر یا پھر گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔

سمارا میں 22 فروری کو ایک شیعہ مسجد پر حملے کے بعد سے عراق میں فرقہ وارانہ فسادات میں کافی تیزی آگئی ہے تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان حالیہ ہلاکتوں کا تعلق بھی فرقہ وارانہ کشیدگی سے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد