BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 March, 2006, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ’قیدی بنیادی حقوق سےمحروم‘
قیدی
عراق میں قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں
حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود امریکہ کی اتحادی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہزاروں قیدی اب بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسا نظر آتا ہے کہ ابو غریب جیل کے منظر عام پر آنے والے سکینڈل سے حاصل نتائج کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور عراق میں قیدیوں پر مسلسل تشدد کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں درج اعداد و شمار سابق قیدیوں سے انٹرویو کے بعد حاصل کیے گئے ہیں۔

اس کے برعکس امریکی اور برطانوی حکام کا اصرار ہے کہ قیدیوں سے مقررہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ اگر عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد اور فرقہ واریت کو روکنے کی کوئی امید ہے تو عراق میں موجود بین الاقوامی افواج اور مقامی حکام کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائیں۔

ایمنٹسی انٹرنیشل کی اڑتالیس صفات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں افراد ایسے بھی ہیں کہ جو بغیر کسی جرم کے قید ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے اور دوسو سے زائد افراد دو سال سے قید ہیں اور تقریباً چار ہزار افراد کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے۔

برطانیہ میں ایمنسٹی انٹرنیشل کی ڈائریکٹر کیٹ ایلن کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کو بنیادی سہولیات کے بغیر قید کرنا انتہائی غلط ہے اور اس کی ذمہ داری امریکی اور برطانوی فوجوں پر عائد ہوتی ہے۔

رپورٹ میں 43 سالہ کمال محمد کا کیس بیان کیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے گیارہ بچوں کے باپ کمال محمد کو بغیر کسی جرم کے دو سال سے قید میں رکھا ہوا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ کمال کے بھائی نے بتایا کہ کمال کو کھانے پینے کو ٹھیک طرح سے نہیں دیا جاتا اور دوران قید ان کا وزن بیس کلو کم ہو گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے قیدیوں کو بھی بغیر کسی معذرت، تلافی اور وضاحت کے رہا کر دیا گیا۔

رپورٹ میں عراق میں موجود اتحادی افواج پر تنقید کی گئی ہے

کیٹ ایلن نے بغداد کی جیل میں امریکی فوج کی قیدیوں سے بدسلوکی کے حوالے سے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی تصاویر کا مقابلہ حالیہ صورت حال سے کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے واضح آثار ہیں کہ ابو غریب جیل کے واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ قیدیوں پر تشدد کے مختلف سکینڈل سامنے آئے ہیں جس کے بعد ان سے بہتر سلوک اور ان سکینڈلوں کی چھان بین کے وعدے تو کیے گئے ہیں مگر اس کے باوجودعراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے قیدیوں پر تشدد کے بڑے واضح ثبوت ملے ہیں۔

جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں نے ایمنسٹی انٹرنیشل کو بتایا کہ انہیں پلاسٹک کےتاروں سے مارا جاتا تھا اور الیکٹرک شاک دیئے گئے اور پانی سے بھرے ایک کمرے کے فرش پر کھڑا رکھا گیا جس میں کرنٹ موجود تھا۔

عراق میں موجود امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ہر قیدی کو اس کی قید کی وجوہات سے متعلق ایک فارم دیا جاتا ہے اور قیدیوں کے بارے میں بنائی گئی فائلوں کا 90 سے 120 دنوں کے اندر جائزہ کیا جاتا ہے۔

برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ قیدیوں سے بدسلوکی کے مبینہ الزامات کو ہمیشہ انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اس کے علاوہ بین الاقوامی مشاہدین کے بھی ان قیدخانوں کے دورے کروائے جاتے رہے ہیں۔

ابوغریبابوغریب، مزید تشدد
ابوغریب پر امریکی مؤقف چیلنج کر دیا گیا
قیدیابوغریب: نئی ویڈیو
ابوغریب میں قیدیوں سے بد سلوکی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد