’تو پھر اتنے سارے بچ کیسے گئے؟‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریا میں اسیر برطانوی مورخ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہٹلر نے یورپی یہودیوں کے خاتمے کے لیے کوئی منظم پروگرام نہیں بنایا تھا۔ اس سے پہلے آسٹریا ہی میں انہوں نے اس سماعت کے دوران جس کے بعد انہیں تین سال جیل کی سزا سنائی گئی یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے اس دعوے کے بارے میں کہ ’مرگِ انبوہ (ہولوکاسٹ) نہیں ہوا تھا‘ اپنی رائے تبدیل کر لی ہے۔ لیکن انہوں نے ایک بار پھر بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ایسا کوئی پروگرام موجود تھا تو پھر ’اتنے سارے بچ کیسے گئے؟‘۔ وہ تین سال کی سزا دیے جانے کے خلاف اور آسٹریائی استغاثہ ان کی سزا بڑھانے کی اپیل کرنے والا ہے۔ آسٹریا میں وکیلِ استغاثہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ ارونگ کو دی جانے والی سزا ممکنہ سزا کی روشنی میں خاصی نرم ہے۔ ڈیوڈ ارونگ نے 20 فروری کی سماعت کے دوران اعتراف جرم کی بنا پر نرمی برتے جانے کا موقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ درست ہے کہ انہوں نے 1989 میں اس بات کی تردید کی تھی کہ نازی جرمنی نے لاکھوں یہودیوں کو ہلاک کیا تھا۔ آسٹریا میں انہیں ایک ایسے سیل میں رکھا گیا ہے جس میں وہ ہر روز 23 گھنٹے تک تنہا رہتے ہیں۔ اس سیل سے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ جنگِ عظیم دوم کے دوران یہودیوں کو گیس کے ذریعے ہلاک کرنے کے اکا دکا واقعات ہوئے ہوں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام یہودیوں کو مار دینے کے پروگرام کو جرمن فوجیوں کی بہیمانہ کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اتنے سارے یہودی بچ کیسے گئے۔ آسٹریا ان گیارہ ملکوں میں سے ایک ہے جہاں دوسری جنگِ عظیم میں یہودیوں کے مرگِ انبوہ کی تردید خلاف قانون ہے۔ | اسی بارے میں یہودیوں پر’ظلم‘ سےانکارپرگرفتاری 18 November, 2005 | فن فنکار غزہ کے ’مظلوم‘ اسرائیلی18 August, 2005 | قلم اور کالم گم گزشتہ یہودی پھر کھو جائیں گے؟13 August, 2005 | آس پاس یہودی بستیاں گِریں گی:رائس 19 June, 2005 | آس پاس یہودی آبادکاری کےخلاف وڈیوگیم 16 June, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||