برطانیہ: قحبہ خانوں کی اجازت کا امکان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چھوٹے پیمانے پر قحبہ خانے کھولنے کی اجازت دینے کے لیے قانون میں ترمیم کا امکان ہے جن میں دو طوائفیں اور ایک ریسیپشنسٹ اکٹھے کام کر سکیں گی۔ اس وقت کے قانون کے مطابق صرف ایک طوائف اکیلی جنسی خدمات مہیا کر سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کو متعارف کرواتے ہوئے وزیر فیونا میک ٹیگرٹ نے کہا کہ اکٹھے کام کرنا خواتین کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔ اس سلسلے میں پہلے اس کاروبار کے لیے علیحدہ علاقے مختص کرنے کا ارادہ تھا جسے ترک کر دیا گیا ہے کیونکہ حکومت کے خیال میں اس سے غلط پیغام جائے گا اور یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مس میک ٹیگرٹ نے کہا ہے کہ ’میں اسے قبول نہیں کر سکتی کہ ہم بازار حسن کے قریب رہنے والے لوگوں کے مسائل سے چشم پوشی کریں‘۔ انہوں نے مزید کیا ہے کہ ’یہ کام راتوں رات ختم نہیں ہو سکتا اور اس پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق اکٹھے کام کرنے میں انہیں کم خطرہ ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’اپنے لیے کام کرنے والی خواتین کے بارے میں یہ امکان بہت کم ہے کہ وہ بڑے پیمانے کے کسی کاروبار میں شریک ہوں۔ اس لیے ایک عارضی مدت کے لیے ان پر سخت جرمانے عائد نہیں کرنے چاہئیں‘۔ تاہم اس حکمت عملی میں انسانوں کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ’کنزرویٹیو‘ پارٹی نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاشرتی مسئلے کی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم بچوں کے حقوق کی تنظیم ’چیریٹی بینارڈو‘ نے اس تجویز کی بھرپور حمایت کی ہے۔ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو مارٹن نے کہا ہے کہ ’اس حکمت عملی سے اس پیشے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو اس جال سے باہر نکلنے میں مدد ملے گی اور دلالوں کو بھی سبق ملے گا‘۔ | اسی بارے میں عورتوں کی فروخت میں اضافہ10 July, 2005 | آس پاس جسم فروش گروہوں کاپردہ فاش02 July, 2005 | آس پاس افریقہ میں انسانی سمگلنگ عروج پر23 April, 2004 | آس پاس ہوس کا عالمی دھندہ06 December, 2003 | آس پاس جنسی سیاحت کا بازار29 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||