عورتوں کی فروخت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہزار چار میں یورپی یونین میں مزید ملکوں کی شمولیت کے بعد نوجوان عورتوں کی مشرقی یورپ سے مغربی یورپ میں اسمگلنگ میں بڑے ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے۔ اسمگلنگ ہو کر آنےوالی عورتوں کے لیے برطانیہ ایک اہم مقام ثابت ہوا ہے۔ اسمگل ہو کر آنے والی آدھی سے زیادہ عورتوں کا تعلق لیتھوینیا سے ہے۔ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے لیتھوینیا میں بی بی سی کی نامہ نگار کو بتایا کہ اس کے بچپن کےایک دوست نے اسے کہا کہ وہ ہالینڈ میں چند ایسے لوگوں کو جانتا ہے جو جسم فروشی کرنے والی عورتوں کو بھرتی کرتے ہیں یہ بھی کہ وہ لیتھونیا کی نسبت وہاں زیادہ پیسے کما سکتی ہے۔ واضح رہے کہ لیتھوینیا میں جسم فروشی ممنوع ہے جبکہ ہالینڈ میں اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔ اس نے اپنے دوست پر یقین کرتے ہوئے چندہفتوں کے اندر ہالینڈ کا رخ کیا۔ جہاں اس کے دوست نے اسےایک لیتھوینین گروہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ کئی مہینوں تک اس گروہ نے اسے مارا پیٹا اور جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ اس کےعلاوہ گاہکوں کا مسلسل سیلاب اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔ پیسے کمانے کے جوسبز باغ اسے دکھائے گئے تھے وہ ایک سراب ثابت ہوئے۔ اس کےاسی دوست نےاس گروہ کواس کے بھاگ کر آنے کی اطلاع کر دی اس گروہ نے اسے لیتھونیا پہنچ کر اتنا مارا پیٹا کہ وہ ادھ موئی ہوگئی۔ آج وہ عورت خوف اور ڈر میں زندگی گزار رہی ہے کہ کہیں پھر وہ دوبارہ اس گروہ کے نرغے میں نہ آجائے۔ نہ جانے کتنی ہی عورتوں کی کہانیاں اس عورت کی کہانی جیسی ہیں۔ لیتھوینیا نے دو ہزار چار میں یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی تھی اس وقت سے اب تک مغربی یورپ سے مشرقی یورپ کی طرف نوجوان عورتوں کی اسملنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی تفتیش کار اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ اس نئی صورت حال کے پس منظر کےحوالے سے عورتوں کی اسملنگ کی اصل وجوہات کا پتہ لگا سکیں۔ کیونکہ عورتوں کو اسمگل کرنے والے لاکھوں کما رہے ہیں۔ عورتوں کی اسمگلنگ کا کاروبار منشیات اور ہتھیاروں کی طرح منافع بخش بنتا جا رہا ہے اور اس کاروبار میں دوسروں کی نسبت خطرات بھی کم ہیں۔ نوجوان عورتوں کی زیادہ تر تعداد ایسی ہے جو اپنے ہی جاننے والوں کے جھانسے میں آ کر جسم فروشی کے اس جال میں گرفتار ہوجاتی ہیں۔ بلکہ اکثر عورتوں کو ان کے بچپن کے دوست، پڑوسی یہاں تک کہ ان کے رشتہ دار فروخت کرتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے اکثر عورتوں کو یہ بھی علم ہوتا ہے کہ ان سے کس قسم کا کام لیا جائے گا جبکہ ان میں سے اکثر یہ سوچ کر جاتی ہیں کہ انہیں ہوٹلوں میں ویٹرسیس یا ایسا ہی کوئی دوسرا کام کرنے کو ملے گا۔ اس حوالے سے کام کرنے والے چند مقامی فلاحی کارکنوں نے بتایا کہ دو نوعمر لڑکیوں کے والدین کو ان کے ایک پڑوسی نےمحفوظ طریقے سے بیرون ملک کام دلوانے کا کہہ کر فروخت کیا۔ جب وہ لڑکیاں بیرون ملک کے ایک قبحہ خانے سے فرار ہو کر واپس اپنے گاؤں گئیں اور پزوسی کو مجرم ٹہراتے ہوئے اصل کہانی سنائی تو کسی نے ان پر یقین نہیں کیا۔ بی بی سی کی نامہ نگار نےلیتھوینیا کی جیل میں قید عورتوں کی اسمگلنگ میں ملوث سزا یافتہ ایک اسمگلرسے ملاقات کی۔ اس نے بتایا کہ وہ مختلف جگہوں کا دورہ کیا کرتا تھا اور دورے کے دوران ملازمت کے لالچ میں عورتیں ہمدرد جان کر اسےاپنی کمزوریاں بتا دیتیں تھیں۔ ابتدائی طور پر وہ انہیں مقامی ملازمت دلواتا بعد میں جسم فروشی کروانے والے اشخاص سے ان عورتوں کو یہ کہہ کر ملواتا کہ وہ انہیں بیرون ملک اچھے پیسوں میں نوکریاں دلائیں گے۔ اس طریقے سے عورتیں اس کے دام میں پھنس کر قبحہ خانوں کی زینت بن جاتیں۔ لیتھونیا کی حکومت نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے برطانوی تفتیش کاروں سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر ملک میں ابھی تک عورتوں کی اسمگلنگ کے حوالے سےکوئی یونٹ موجود نہیں ہے۔ لیتھوینیا کی پولیس جسم فروشی اور اسمگلنگ میں ابھی تک تفریق نہیں کر پائی ہے۔ برطانیہ کے قبحہ خانوں میں فروخت کی ہوئی عورتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے عورتوں کوفروخت کرنےوالوں کی پکڑ ضروری ہے لیکن ان قبحہ خانوں میں ان اسمگل شدہ عورتوں کی طلب میں کمی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||