’عورتیں تنگ کرتی ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملا ئشیا کا آگ بجھانے والا عملہ اپنی جنسی کشش کے باعث مشکلات سے دوچار ہے۔ شہری دفاع کے سربراہ جمال عارفین نے کہا ہے کہ ہنگامی نمبروں پر کیے جانے والے ستانوے فی صد ٹیلیفون غیر ضروری اور جُھوٹے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ٹیلیفون ایسی خواتین کے ہوتے ہیں جو اپنی تنہائی سے تنگ آ کر کسی مرد سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ملک کے مشرقی شہر کوالا ترنگنو میں زیادہ گمبھیر جہاں اب 991 پر کی جانے والی کالیں ریکارڈ کی جائیں گی تا کہ وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ پچھلے سال حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پولیسں کے ہنگامی نمبروں پر کی جانے والی ہر دو سو کالوں میں سے صرف ایک صحیح پائی گئی۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ملک کے شہری دفاع کے اداروں کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہے۔ ان اداروں کا کام ہے کہ وہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں لیکن اکثر اوقات وہ جھوٹی کالوں سے نمٹتے رہتے ہیں۔ جمال عارفین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ایسی خواتین فون کرتی ہیں جو تنہائی ختم کرنے کے لیے ان کے عملے کے ساتھ گپ شپ کرنا چاہتی ہیں۔ محکمہ نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ عملے کی خواتین کو ہنگامی حالات کے بارے میں فون کرنے والوں میں زیادو تعداد مردوں کی ہوتی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||