BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایریئل شیرون کا سحر ٹوٹ رہا ہے

اسرائیلی شہری شیرون کے بارے میں خبر پڑھ رہا ہے
ان کی وفات اسرائیل کی تاریخ میں ایک اہم سنگ واقعہ ہو سکتا ہے
اسرائیل کے لوگ ایریئل شیرون کی بیماری سے چکرا کر رہ گئے ہیں۔ مت بھولیے کہ وہ پہلے بھی شدید بیمار رہے ہیں اور انہیں ہسپتال سے فارغ ہوئے کچھ ہی دن گزرے تھے۔

لیکن جلد ہی وہ دوبارہ کام کرنے لگے اور ایسا محسوس ہوا کہ وہ کبھی بیمار ہوئے ہی نہیں۔ اس وقت ایک اخبار میں بتایا گیا کہ انہیں مخصوص غذا دی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ان کی بیماری کی وجہ ان کے دل کا سوراخ ہے۔

ایریئل شیرون اپنی زندگی میں اتنے محاذوں پر لڑ چکے ہیں کہ اب ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ نا قابل شکست ہیں۔ لیکن ثابت ہوا کہ وہ انسان ہی ہیں۔

اسرائیلی ہنگامی صورتحال سے بہت جلدی سنبھل جاتے ہیں لیکن سیاست میں شیرون کی عدم موجودگی اور ان کی طبی حالت سے پتہ چلتا ہے کہ ایک رہنما کے طور پر کام کرنا تو درکنار ان کی جان بھی بچنا مشکل نظر آ رہا ہے۔

یہ صورتحال دس سال قبل یتزاک رابن کے قتل کے جیسی ہے جب ذرا مختلف حالات میں ایسا ہی بحران پیدا ہو گیا تھا۔ اس وقت اسرائیلی نہ صرف اپنے وزیر اعظم سے محروم ہو گئے تھے بلکہ ایک ایسا شخص چلا گیا جس کی عسکری میدان میں کارکردگی سے وہ اپنےآپ کو زیادہ محفوظ سمجھنے لگے تھے۔

شیرون کی طرح وہ بھی آبادی کے چند مخصوص طبقوں میں سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ لیکن ان کی سیاسی طاقت ان کے سخت رویے میں تھی اور اسرائیلی ان پر اعتماد کرتے تھے۔

ایریل شیرون
انہوں نے کم نظریاتی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا

رابن کی وفات کی دسویں برسی کے موقع پر اسرائیل میں یہ بحث ہوتی رہی کہ اگر وہ موجود ہوتے تو اسرائیل کے حالات کیسے ہوتے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ حالات مختلف اور بہتر ہوتے کیونکہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ بہتر شرائط پر مذاکرات کر سکتے تھے۔

کیا اگلے دس سال میں شیرون کے بارے میں بھی یہی بحث کی جائے گی؟ یہ آنے والے انتخابات کے نتائج اور اس کے بعد کے واقعات پر بھی منحصر ہو گا۔

شیرون اور ان کی نئی پارٹی قدیمہ اس وقت عوام میں مقبول تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اگلی حکومت بنائیں گے۔ ان کے اس اقدام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ غزہ کے علاقوں سے یہودیوں کے انخلا کے مسئلے پر انہیں ان کی سابقہ پارٹی کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ اسرائیلی فلسطین کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے بہت سے حلقے ان پر اعتماد کرتے ہیں۔

انہوں نے ایک بہت اچھے سیاسی موقع کا فائدہ اٹھایا جو کہ اب بھی موجود ہے اور موجودہ نگران وزیر اعظم بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے سب سے پہلے انہیں اپنی پارٹی، لیکود کے سابقہ رہنماؤں اور سابق وزیر اعظم شیمون پیریز کو اپنی حمایت اور نامزدگی کے لیے آمادہ کرنا ہو گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون شیرون اور فلسطینی
کیا شیرون کے بعد امن کاعمل جاری رہ سکے گا؟
ایرل شیرونشیرون کی نئی پارٹی
شیرون نے اپنی نئی پارٹی کا نام طے کر لیا ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد