غزہ میں برطانوی مغوی خاندان رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینیوں کے لیے کام کرنے والی چوبیس سالہ برطانوی امدادی کارکن کیٹ برٹن اور ان کے والدین کو غزہ میں ان کے اغواکاروں نے رہا کردیا ہے۔ رہا کیے جانے کے بعد کیٹ برٹن نے بی بی سی عربی سروِس کو بتایا کہ ان کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا گیا اور وہ اغواکاروں کے بارے میں کچھ برا نہیں کہہ سکتیں۔ اغواکاروں پر برطانیہ کی حکومت، فلسطینی انتظامیہ، فلسطینی گروہوں اور برطانوی مسلم تنظیموں کی جانب سے کیٹ برٹن کی رہائی کے لیے شدید دباؤ تھا۔ کیٹ برٹن کو چند دن پہلے اس وقت اغوا کرلیا گیا جب وہ اپنے والدین کو رفاہ کے علاقے دکھانے لےگئیں۔ ان کے والد کو غزہ شہر میں رہائی کے بعد برطانوی سفارتکاروں کی گاڑی میں جاتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔ فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات نے بی بی سی کو بتایا کہ کیٹ برٹن اور ان کے والدین ’محفوظ اور بخیر‘ ہیں۔ ان کی رہائی سے قبل خود کو مجاہدین بریگیڈ کہنے والی ایک تنظیم نے ایک وڈیو جاری کیا جس میں برطانیہ کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ وہ کیٹ برٹن کو رہا کررہے ہیں لیکن بعد میں مزید لوگوں کو اغوا کرسکتے ہیں۔ کیٹ برٹن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگرچہ ان کے والدین کو برے تجربے کا سامنا رہا تاہم وہ خود غزہ میں انسانی حقوق کے کام کرتی رہیں گی۔ | اسی بارے میں غزہ اور مصر کے درمیان کراسنگ بند09 September, 2005 | آس پاس حماس کا حملے روکنے کا اعلان 25 September, 2005 | آس پاس ’فتح‘ کے دفتر کے باہر مسلح جھڑپیں14 December, 2005 | آس پاس شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری28 December, 2005 | آس پاس 38 سال بعد غزہ میں فلسطینی پرچم12 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||