یمن میں تودہ گرنے سے تیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یمن کے ایک گاؤں میں پہاڑی تودہ گرنے سے کم از کم تیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت صنعاء کے جنوب مغربی گاؤں الدفیر میں گرنے والے اس تودے نے تیس مکان روند ڈالے۔ اس کے علاوہ پینتیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس اور فوجی اہلکار ملبے کے نیچے سے بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم عبدالقادر نے امدادی کام کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ گاؤں کا دورہ کیا۔ حکا مکے مطابق اب تک بیس لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ گاؤں کے رہنے والوں کا خیال ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ساٹھ تک پہنچ سکتی ہے۔ یمن کے نائب صدر علی سلیم نے بھی وزیر اعظم کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ تاہم ناہموار پہاڑی علاقے کی وجہ سے امدادی کام مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک حکومتی ترجمان نے بتایا ہے کہ پہاڑ کا ایک بڑا حصہ ایک دم نیچے گر گیا جس سے بہت سے گھر دب گئے۔ تودہ گرنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ یمن کے ’سیسمالوجی سینٹر‘ نے کہا ہے کہ اس علاقے میں زلزلہ آنے کے کوئی آثار نہیں پائے گئے اور نہ ہی کسی شدید موسمی صورتحال کا کوئی امکان ہے۔ یمن میں موسم بہار اور موسم گرما میں سیلاب آتے رہتے ہیں لیکن پہاڑی تودے گرنے کے واقعات یہاں عام نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں ہنگامی کیش فنڈ کی منظوری16 December, 2005 | آس پاس مشرقی افریقہ میں زلزلہ06 December, 2005 | آس پاس ایران میں زلزلہ، کئی ہلاک27 November, 2005 | آس پاس انڈونیشیا کے ساحل پر زلزلہ19 November, 2005 | آس پاس افغانستان زلزلہ، پانچ افراد ہلاک23 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||