عزت ابراہیم کی موت معمہ بن گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نئے اعلان کے بعد صدر صدام کے قریبی ساتھی عزت ابراہیم کی موت معمہ بن گئی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ عزت ابراہیم کے بارے میں اطلاع دینے والے کو انعام دینے کا جو اعلان کیا گیا تھا وہ اب تک برقرار ہے۔ امریکہ نے ان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ دو روز قبل سابق حکمران جماعت بعث پارٹی نے کہا ہے کہ سابق صدر صدام حسین کے قریبی ترین ساتھی عزت ابراہیم الدوری انتقال کرگئے ہیں۔ پارٹی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’مزاحمتی تحریک کے رہنما کا انتقال گیارہ نومبر کو ہوا‘۔ تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ امریکہ کی طرف سے الدوری کی موت پر سوال اٹھائے جانے کے بعد بعث پارٹی کی ویب سائٹوں نے بھی کہا ہے کہ یہ اعلان ایک دھوکے بازی تھا۔ مسٹر الدوری ، جن کی عمر تریسٹھ برس تھی، صدام حکومت کے سب سے سینئیر رہنما تھے اور ابھی تک امریکہ کے ہاتھ نہیں آ سکے ہیں۔ عراقی میں امریکی سالاری میں موجود افواج کی جانب سے حالیہ برسوں پر ان پر عراق میں مزاحمت کاروں کو سرمایہ فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ عزت ابراہیم امریکہ کو مطلوب پچپن افراد میں سے چھٹے نمبر پر تھے جبکہ پہلے پانچ گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ انہیں کئی برسوں پہلے خون کا کینسر تشخیص کیا گیا تھا لیکن وہ علاج کے بعد اندرونی اور غیر ملکی ذمہ داریاں سنبھالنے لگے تھے۔ | اسی بارے میں صدام مقدمے کے وکیلِ صفائی قتل22 October, 2005 | آس پاس ’میں بے گناہ ہوں، تم کون ہو‘؟20 October, 2005 | آس پاس صدام کے مقدمے پر سب کی نظر20 October, 2005 | آس پاس صدام حسین کے خلاف مقدمہ شروع 19 October, 2005 | آس پاس صدام: مقدمے کی تاریخ مسترد22 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||