صدام: مقدمے کی تاریخ مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کی پیروی کرنے والے وکیلوں نے کہا ہے کہ مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کی تاریخ وہ تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ انہیں اس کی باضابط اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ صدام حسین کے عراقی وکیل خلیل دلیمی نے یہ بھی کہا کہ الزامات سے متعلق کسی فائل کو دیکھنے کا موقع نہیں دیا گیا ہے حالانکہ بار بار اس کی درخواست کی گئی ہے۔ صدام حسین اور ان کے سات عہدے داروں کے مقدمے کی تاریخ انیس اکتوبر مقرر ہوئی ہے۔ صدام حسین پر سن انیس سو بیاسی میں ایک سو سینتالیس شیعہ مسلمانوں کے قتل کا مقدمہ چلایا جانا ہے۔ ان 143 افراد کو مبینہ طور پر صدام حسین پر قاتلانہ حملے کے بعد بغداد کے شمالی میں واقع شہر دوجیل میں ہلاک کیا گیا تھا۔ عراقی حکومت نے چار ستمبر کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ عراقی سپیشل ٹرائبیونل صدام حسین کے خلاف مقدمے کی کارروائی 19 اکتوبر کو شروع کرے گا۔ حکومت کے ترجمان لیت کبہ کے مطابق صدام حکومت کے دیگر ارکان کے خلاف بھی مقدمہ چلایا جائے گا۔ ان میں صدام حسین کے انٹیلی جنس چیف برازان ابراہیم، سابق نائب صدر طہٰ یاسین رمضان اور دوجیل میں بعث پارٹی کے عہدے دار اود حماد البندر شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||