صدام کے قریبی ساتھی انتقال کرگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی سابق حکمران جماعت بعث پارٹی نے کہا ہے کہ سابق صدر صدام حسین کے قریبی ترین ساتھی عزت ابراہیم الدوری انتقال کرگئے ہیں۔ پارٹی کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق ’مزاحمتی تحریک کے رہنما کا انتقال گیارہ نومبر کو ہوا۔‘ اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ مسٹر الدوری ، جن کی عمر تریسٹھ برس تھی، صدام حکومت کے سب سے سینئیر رہنما تھے اور ابھی تک نہیں پکڑے گئے تھے۔ امریکہ نے ان کی گرفتاری کے لئے معلومات فراہم کرنے والے کے لئے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ حالیہ برسوں پر ان پر عراق میں مزاحمت کاروں کو فنانس کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ عزت ابراہیم امریکہ کو مطلوب پچپن افراد میں سے چھٹے نمبر پر تھے جبکہ پہلے پانچ گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مسٹر الدوری کا انتقال کس وجہ سے ہوا لیکن عراقی حکام خبر کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں کئی برسوں پہلے خون کا کینسر تشخیص کیا گیا تھا لیکن وہ علاج کے بعد اندرونی اور غیر ملکی ذمہ داریاں سنبھالنے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ اکثر بین الاقوامی سطح پر عراق کی نمائندگی کرتے تھے اور خاص طور پر 2003 میں عراق پر جنگ سے پہلے خاصے سرگرم تھے۔ کافی عرصے سے ایسے اطلاعات بھی آرہی تھیں کہ وہ جنگ کے بعد زیر زمین جانے کے بعد سے بیمار تھے۔ عزت ابراہیم ، جو صدام حسین کے شہر تکرک میں پیدا ہوئے تھے ، سابق صدر کا دایاں ہاتھ تصور کئے جاتے اور فوج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف تھے۔ | اسی بارے میں صدام مقدمے کے وکیلِ صفائی قتل22 October, 2005 | آس پاس ’میں بے گناہ ہوں، تم کون ہو‘؟20 October, 2005 | آس پاس صدام کے مقدمے پر سب کی نظر20 October, 2005 | آس پاس صدام حسین کے خلاف مقدمہ شروع 19 October, 2005 | آس پاس صدام: مقدمے کی تاریخ مسترد22 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||