لنڈی انگلینڈ کو تین سال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک فوجی عدالت نے خاتون فوجی لنڈی انگلینڈ کو عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی اور غیر اخلاقی حرکات کرنے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد بائیس سالہ لنڈی انگلینڈ تین سال قید کے علاوہ فوج سے نکال دیا گیا ہے۔ لنڈی پر قیدیوں پر تشدد کرنے اور ان کے ساتھ غیر اخلافی حرکات کرنے کے چھ مختلف الزامات عائد کئے گئے تھے۔ سزا سنائے جانے سے قبل لنڈی انگلینڈ نے عراق میں قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ اتحادی فوجوں سے بھی معافی مانگی۔ ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی جو تصاویر منظر عام پر آئی تھیں ان میں ایک تصویر میں لنڈی انگلینڈ ایک قیدی کے گلے میں پٹے ڈالے کھڑی ہنس رہی تھیں۔ جبکہ ایک اور تصویر میں وہ برہنہ قیدیوں کے مینار کے پاس کھڑی قہقہے لگا رہی تھیں۔ لنڈی پر چلائے جانے والے مقدمے کے دوران عدالت نے صفائی کے وکلاء کا یہ استدلال مسترد کر دیا تھا کہ لنڈی انگلینڈ کو ان کے ساتھیوں نے گمراہ کیا تھا اور انہیں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر اکسایا تھا۔ ابوغریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے والے فوجیوں کے گروپ میں نو فوجی شامل تھے۔ ان پر قیدیوں پر تشدد کرنے کے چار اور ساتھی فوجیوں کے ہمراہ قیدیوں کو برہنہ کرکے اُن کا مینار بنانے کی سازش کرنے کے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔ ان کے علاوہ قیدیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرنے اور اس حالت میں تصویریں بنوانے کا ایک اور الزام بھی ثابت ہو گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||