لنڈی قیدیوں پر تشدد کی مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک فوجی عدالت نے خاتون فوجی لنڈی انگلینڈ کو عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی اور غیر اخلاقی حرکات کرنے کے جرم کا مرتکب قرار دیا ہے۔ ان الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد بائیس سالہ لنڈی انگلینڈ کو زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے لنڈی انگلینڈ پر لگائے گئے سات میں چھ الزامات کو درست قرار دیا۔ عدالت نے صفائی کے وکلاء کا یہ استدلال مسترد کر دیا کہ لنڈی انگلینڈ کو ان کے ساتھیوں نے گمراہ کیا تھا اور انہیں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر اکسایا تھا۔ ابوغریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے والے فوجیوں کے گروپ میں نو فوجی شامل تھے۔ مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے پر لنڈی انگلینڈ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور ٹکساس کی فوجی عدالت میں ’اٹینشن‘ حالت میں سیدھی کھڑی رہیں۔ ان پر قیدیوں پر تشدد کرنے کے چار اور ساتھی فوجیوں کے ہمراہ قیدیوں کو برہنہ کرکے اُن کا مینار بنانے کی سازش کرنے کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ ان کے علاوہ قیدیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرنے اور اس حالت میں تصویریں بنوانے کا ایک اور الزام بھی ثابت ہو گیا۔ لنڈی کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد ان کو سزا سنائے جانے کے لیے عدالت کی کارروائی پیر کو شروع ہو ئی ہے۔ استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ لنڈی نے قیدیوں کی تذلیل کی کیونکہ وہ بیمار ذہینت کی مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لنڈی انگلینڈ اور دوسرے فوجیوں نے صرف اور صرف تفریح حاصل کرنے کے لیے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور غیر اخلاقی حرکات کیں۔ اس سے قبل لنڈی کے بوائے فرینڈ چارلس گارنر کو بھی ان واقعات میں ملوث پائے جانے پر مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||