BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 September, 2005, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودی عرب:شراب کی فیکٹریاں برآمد

شراب
سعودی معاشرے میں شراب بنانے اور اس کا کاروبار کرنے پر مکمل پابندی ہے
سعودی عرب کے انتہائی قدامت پرست معاشرے میں جہاں شراب پر مکمل پابندی ہے وہاں شراب کی فیکٹریوں کے منظر عام پر سے سعودی معاشرے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نےسعودی عرب میں شراب تیار کرنے والی فیکٹریوں پر چھاپوں کی تفصیلات جاری کیں۔ان چھاپوں میں کئی حکومتی اداروں کے
اہلکاروں نےحصہ لیا۔

اخبار شرق الوسط کے مطابق دارالحکومت ریاض کےمشرق میں الربوا میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر پندرہ ہزار سعودی ریال مالیت کی شراب کو حکام نے قبضے میں لیا۔ اس گھر میں شراب بنانے کی مکمل فیکڑی لگائی گئی تھی۔

سعودی عرب
سعوری عرب ایک انتہائی قدامت پرست معاشرہ تصور کیا جاتا ہے

اس گھر کو ایک مقامی سعودی نے کرائے پر لے رکھا تھا جس میں افریقہ اور دوسرے کئی ممالک کے افراد کو فیکڑی کی ملازمت پر رکھا گیا تھا۔

اس فیکڑی میں انتہائی جدید مشینوں کے مدد سے انگور، چوہوں کی گلی سڑی لاشیں( تاکہ عمل تبخیر سے شراب بنانے کے عمل کو بڑھایا جاسکے)، گٹر کا پانی اور دوسرے ممنوعہ کیمیکلز سے بڑی بھاری مقدار میں شراب تیار کی جارہی تھی۔

اس سے ملتی جلتی شراب بنانے کی فیکٹریاں سعودی عرب کے دوسرے علاقوں سے بھی دریافت ہوئیں۔ ان فیکٹریوں میں پیسے کمانے کی خاطرصحت کے بنیادی اصولوں تک کومکمل نظرانداز کیا گیاتھا۔

اخبار کے مطابق ایک دو لیٹر بئیر کی بوتل کی قیمت دو سو پچاس سعودی ریال ہے جبکہ زیادہ آرڈر دینے پر قیمت میں خصوصی رعایت بھی دی جاتی ہے۔

ایک شراب بنانے کی فیکٹری اس کاروبار سےسالانہ بائیس اعشاریہ پانچ ملین ریال پیدا کرتی ہے۔

شراب کی فروخت عموماً بدھ اور جمعرات کو کی جاتی ہے کہ جب ان فیکٹریوں کے ایجنٹ اپنے گاہکوں کو شراب فروخت کرتے ہیں۔

شراب بنانے کی تربیت
 شراب کی ان فیکٹریوں سے گرفتار ہونے والے زیادہ تر افراد غیر سعودی ہیں جو شراب بنانے کے عمل سے واقف تھے اور انہوں نے مقامی لوگوں کو اس کی تیاری کی تربیت بھی دی

ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ شراب بنانے کے اس کاروبار کے بارے میں اس سے وابستہ لوگوں سے پتہ چلا جو اب اسے چھوڑ چکے ہیں۔ وہ اپنے اس کام پر شرمندہ تھے اور انہوں نے ان فیکٹریوں کی نشاندہی کے لیے مکمل تعاون کیا۔

ریاض کے صحت مرکز کا کہنا ہے کہ شراب کی تیاری میں استعمال کیمیکلز سے انسانی جگر اور گردے براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور ان کے کام چھوڑ دینے کا اندیشہ بڑھ جاتاہے۔

شراب کی ان فیکٹریوں سے گرفتار ہونے والے زیادہ تر افراد غیر سعودی ہیں جو شراب بنانے کے عمل سے واقف تھے اور انہوں نے مقامی لوگوں کو اس کی تیاری کی تربیت بھی دی۔گرفتار ہونے والوں میں کئی کا تعلق فلپائن سے ہے ۔

گرفتارشدگان نے بتایا کہ اس کاروبار سے انہیں زیادہ آمدنی ہوتی تھی اور کم وقت میں زیادہ پیسے کمائے جاسکتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد