سعودی عرب:شراب کی فیکٹریاں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے انتہائی قدامت پرست معاشرے میں جہاں شراب پر مکمل پابندی ہے وہاں شراب کی فیکٹریوں کے منظر عام پر سے سعودی معاشرے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ نےسعودی عرب میں شراب تیار کرنے والی فیکٹریوں پر چھاپوں کی تفصیلات جاری کیں۔ان چھاپوں میں کئی حکومتی اداروں کے اخبار شرق الوسط کے مطابق دارالحکومت ریاض کےمشرق میں الربوا میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر پندرہ ہزار سعودی ریال مالیت کی شراب کو حکام نے قبضے میں لیا۔ اس گھر میں شراب بنانے کی مکمل فیکڑی لگائی گئی تھی۔
اس گھر کو ایک مقامی سعودی نے کرائے پر لے رکھا تھا جس میں افریقہ اور دوسرے کئی ممالک کے افراد کو فیکڑی کی ملازمت پر رکھا گیا تھا۔ اس فیکڑی میں انتہائی جدید مشینوں کے مدد سے انگور، چوہوں کی گلی سڑی لاشیں( تاکہ عمل تبخیر سے شراب بنانے کے عمل کو بڑھایا جاسکے)، گٹر کا پانی اور دوسرے ممنوعہ کیمیکلز سے بڑی بھاری مقدار میں شراب تیار کی جارہی تھی۔ اس سے ملتی جلتی شراب بنانے کی فیکٹریاں سعودی عرب کے دوسرے علاقوں سے بھی دریافت ہوئیں۔ ان فیکٹریوں میں پیسے کمانے کی خاطرصحت کے بنیادی اصولوں تک کومکمل نظرانداز کیا گیاتھا۔ اخبار کے مطابق ایک دو لیٹر بئیر کی بوتل کی قیمت دو سو پچاس سعودی ریال ہے جبکہ زیادہ آرڈر دینے پر قیمت میں خصوصی رعایت بھی دی جاتی ہے۔ ایک شراب بنانے کی فیکٹری اس کاروبار سےسالانہ بائیس اعشاریہ پانچ ملین ریال پیدا کرتی ہے۔ شراب کی فروخت عموماً بدھ اور جمعرات کو کی جاتی ہے کہ جب ان فیکٹریوں کے ایجنٹ اپنے گاہکوں کو شراب فروخت کرتے ہیں۔
ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ شراب بنانے کے اس کاروبار کے بارے میں اس سے وابستہ لوگوں سے پتہ چلا جو اب اسے چھوڑ چکے ہیں۔ وہ اپنے اس کام پر شرمندہ تھے اور انہوں نے ان فیکٹریوں کی نشاندہی کے لیے مکمل تعاون کیا۔ ریاض کے صحت مرکز کا کہنا ہے کہ شراب کی تیاری میں استعمال کیمیکلز سے انسانی جگر اور گردے براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور ان کے کام چھوڑ دینے کا اندیشہ بڑھ جاتاہے۔ شراب کی ان فیکٹریوں سے گرفتار ہونے والے زیادہ تر افراد غیر سعودی ہیں جو شراب بنانے کے عمل سے واقف تھے اور انہوں نے مقامی لوگوں کو اس کی تیاری کی تربیت بھی دی۔گرفتار ہونے والوں میں کئی کا تعلق فلپائن سے ہے ۔ گرفتارشدگان نے بتایا کہ اس کاروبار سے انہیں زیادہ آمدنی ہوتی تھی اور کم وقت میں زیادہ پیسے کمائے جاسکتے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||