ہروقت شراب فراہم نہیں ہونی چاہیے: پولیس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی پولیس کے ایک اعلی افسر نے کہا ہے کہ شراب خانوں میں ہر وقت شراب کی دستیابی کی وجہ سے شرابیوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ میٹروپولیٹن پولیس چیف سر جان سٹیون نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شراب خانوں میں ہر وقت شراب نوشی کی تجویز پر غور کی ضرورت ہے۔ پولیس چیف نے کہا کہ کچھ عرصے سے شرابیوں کی طرف سے پولیس پر حملوں پر بھی اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی حکومت ایک تجویز پر غور کر رہی کہ شراب خانوں کو چوبیس گھنٹے شراب کی فراہمی کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ سارے شرابی ایک ہی وقت میں سڑکوں پر نہ آجائیں گے۔ برطانوی میں شرابیوں کے طرف سے لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات میں اضافے کے بعد حکومت اس رجحان کو روکنے پر سوچ رہی ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس چیف نے کہا کہ ایک نشت میں بہت ساری شراب پی کر ٹن ہو جانے والے پولیس کے لیے ایک سردردی ہیں اور پولیس پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ سال میں لندن میں پولیس پر حملوں میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس نے حکومت کو پریشان کر دیا ہے۔ حکومت شراب خانوں کے لائسنس جاری کی طاقت مجسٹریٹ کی بجائے مقامی حکومت کو دینے پر غور کر رہی ہے۔ حکومت پولیس کو یہ اختیار بھی دینے والی ہے جس کے مطابق اگر کسی شراب خانے میں شرابی مسلسل غل غپاڑہ کریں گے جس سے لوگوں کے امن میں خلل پڑے تو پولیس ایسے شراب خانے کو بغیر کوئی نوٹس دیے بغیر چوبیس گھنٹے تک بند کر سکے گی۔ ثقافت کی وزیر ٹسا جوول نے کہا کہ حکومت شرابیوں سے توقع رکھتی ہے کہ اپنے وہ رویوں کو ٹھیک رکھیں اور ان کو بچوں کی طرح حرکات نہیں کرنی چاہیں۔ برطانوی پر غور ہوناچاہیے کیونکہ ہر وقت شراب کی فراہمی ملک میں جرائم کے اضافے کا ایک سبب ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||