بیلجیم میں ایرانی وفد: شراب پرتنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیلجیم کے دورے پر جانے والے ایرانی پارلیمان کے ایک وفد نے کھانے کی میز پر شراب رکھے جانے اور خواتین سے مصافحہ کرنے سے انکار کر کے اپنے میزبانوں کو ناراض کر دیا۔ بیلجیم کی پارلیمان کے اسپیکر ہرمن ڈی کرو نے بغیر شراب کے ظہرانہ دینے کے بجائے ایرانی وفد کے اعزاز میں دیے جانے والے ظہرانے کو منسوخ کرنے کو ترجیح دی۔ بیلجیم سینیٹ کی صدر عینی ماری لزنی نے مہمانوں کی جانب سےخواتین سے مصافحہ کرنےسے انکار کرنے کے تنازعہ کے سبب ان کے ساتھ مذاکرات بھی منسوخ کر دیے۔ ترجمان پیٹرک پیرامنس نے کہا ’ہم نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ایرانی خواتین سے مصافحہ نہ کرنے کی بات پر ڈٹے رہے۔‘ سینیٹ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے بارہ رکنی وفد سے مذاکرات اس لیے ملتوی مسٹر کرو کا کہنا تھا کہ ’مجھے ایسی شرائط تحریری طور پر موصول نہیں ہوئیں بلکہ مجھ سے براہ راست کہلوایا گیا کہ کھانے کے ساتھ شراب نہ رکھی جائے۔ اب مسٹر کرو ایرانی وفد سے صرف ایک گھنٹے کی ملاقات کریں گے۔ پارلیمان کے ترجمان کا کہنا تھا ’ہمارے یہاں آنے والے مہمانوں کے لیے شراب نوشی ضروری نہیں ہے لیکن ہم باہر سے آنے والوں کے طور طریقے نہیں اپنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بیلجیم کے مندوبین نے مغربی روایات پر قائم رہنا مناسب سمجھا۔ ایران کے وفد کی قیادت تہران اسمبلی کے قدامت پسند رہنما غلام علی حداد عادل کر رہے ہیں۔ ایران نے حال ہی میں ایک نئے قدامت پسند صدر محمود احمدی نثراد کو منتخب کیا ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||