جکارتہ: بم حملے کے ملزم کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی ایک عدالت نے سنہ 2004 میں جکارتہ میں آسٹریلیا کے سفارت خانے پر بم حملے کے مرکزی ملزم کو سزائے موت سنا دی ہے۔ اوان درماوان عرف ریوس پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر متعلقہ سامان خریدنے اور اس گاڑی کو چلانے کےلیے ڈرائیور بھرتی کرنے کا جرم ثابت ہو گیا تھا۔ ریوس وہ پہلے شخص ہیں جنہیں اس مقدمے میں سزائے موت دی گئی ہے۔ ان سے قبل اس مقدمے میں تین دیگر ملزمان کو سات سال سے بیالیس سال کے درمیان قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ اس مقدمے کے دو ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ ریوس نے ان تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے فیصلے کو ’احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ مجھے سزائے موت ملنے کی خوشی ہے۔ میں خوش ہوں کہ میں ایک شہید کی موت مروں گا‘۔ ریوس کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ اپنے فیصلے میں چیف جج نے کہا کہ ’ ریوس قانونی طریقے سے دہشتگردی کرنے اور اس سے متعلقہ معلومات چھپانےکا مجرم ثابت ہو گیا ہے‘۔ جج نے یہ بھی بتایا کہ ریوس نے حملے سے قبل تین مرتبہ آسٹریلوی سفارت خانے کا دورہ کیا تھا۔ آسٹریلوی سفارت خانے پر ہونے والے اس حملے میں خود کش حملہ آور سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کا الزام مقامی شدت پسند گروہ جمیعہ اسلامیہ پر لگایا گیا تھا۔ جمیعہ اسلامیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے تعلقات القاعدہ سے ہیں اور اس نے ہی اس حملے کے لیے رقوم فراہم کی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||