BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 August, 2005, 11:06 GMT 16:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک امریکی خاتون سپاہی کی کہانی
کیلا ولیمز
اس کتاب میں عراق کی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور صحافیوں کے کرداروں پر ان کی خدمات کے تناظر میں روشنی ڈالی گئی ہے
عراق میں خدمات سرانجام دینےوالی ایک سابق امریکی ملڑی انٹیلیجنس آفیسر کیلا ولیمز کی نئی کتاب ’آئی لومائی رائفل مور دین یو‘ منظر عام پر آئی ہے۔ انہوں نےاس کتاب میں عراق جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور صحافیوں کے کرداروں پر ان کی خد مات کے تناظر میں روشنی ڈالی ہے۔

بی بی سی کے ایک پروگرام میں انہوں نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کا مقصد اس جنگ میں امریکی خواتین فوجیوں کے کردار پر روشنی ڈالنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عراق میں اس وقت گیارہ ہزار ایک سو خواتین مختلف عہدوں پرخدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ جو امریکی فوج کا آٹھ فیصد بنتی ہیں۔ عراق میں اس وقت امریکی فوج کےایک لاکھ اڑتیس ہزار فوجی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

ان خواتین فوجیوں میں سینتیس ہلاک جبکہ تین سو زخمی ہیں۔ اگرچہ وہ براہ راست جنگی محاذوں پر تعینات نہیں ہیں لیکن عراق کی صورت حال نے بہت سی خواتین کو انتہائی حساس پوزیشنوں پر دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فوج میں مردوں کی طرح خواتین کے کرداروں پر بھی ایک سی رخ سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

ولیمز کو فوج میں پانچ سال ہونے کو آئے ہیں جن میں سے ایک سال انہوں نے امریکہ کے عراق پر قبضہ کے دوران عراق میں گزارا۔

ان کی کتاب میں کویت ، عراق کی سرحدوں، بغداد، موصل اور انتہائی دوردراز پہاڑی سلسلے میں شام کی سرحدوں پر واقع ان کی تعیناتی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

خواتین کی حالت زار
 ان خواتین فوجیوں میں سینتیس ہلاک جبکہ تین سو زخمی ہیں۔ اگرچہ وہ براہ راست جنگی محاذوں پر تعینات نہیں ہیں لیکن عراق کی صورت حال نے بہت سی خواتین کو انتہائی حساس پوزیشنوں پر دھکیل دیا ہے۔
عراق کو چھوڑنے سے پہلے انہوں نے اپنی آنکھوں سے ہزاروں فوجیوں کو ہلاک اور زخمی ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک خاتوں ہونے کی حیثیت سے اب غریب جیل سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد انہیں اس بارے میں مدد فراہم کرنے کے لیے کہا گیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں عربی زبان سے آگاہی حاصل تھی اور ان کے بارے میں یہ بھی خیال کیا گیا کہ وہاں کی ثقافت کے پس منظر میں وہ خواتین قیدیوں کے حوالے سے مددگار ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے سکوک سے بہت مضطرب تھیں اور جب امریکی فوجیوں نے قیدیوں کو ایذا رسانی کا نشانہ بنانا شروع کیا تووہ جان گئیں کہ اب حدیں ختم ہوچکی ہیں۔

انہوں نے چاہا کہ وہ اس معاملے کے بارے میں شکایت کریں مگر یہ معاملہ خود ہی سب کے سامنےآگیا۔

انہوں نے بتایا کہ عراق کی صورت حال نے وہاں رہنے والوں کو اس بات پرمجبور کیا ہے کہ وہ سب کچھ کر گزریں۔

ولیمز نے بتایا کہ اس طرح کے جنگی زون میں اس قسم کی صورت حال نے خواتین کے لیے ایک مقابلے کی فضا پیدا کردی ہے ۔

ولیمز نے حال ہے میں ایک زخمی فوجی سے شادی کی ہے جو عراق جنگ میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ انہوں نے ولیمز کو اس کتاب کے لکھنے میں مدد بھی کی۔

انہوں نے بتایا کہ ہم سب انسان ہیں جواچھے اور برے دونوں کرداروں کےمالک ہیں لیکن بہادری اس میں ہے کہ اچھائی کو سامنے لاتے ہوئے تمام حالات کا مقابلہ کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد