عراق: حملوں میں بارہ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مزاحمت کاروں کی جانب سے مختلف کاروائیو ں دو امریکی فوجیوں سمیت بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی عراق سے پولیس اور شہریوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین بجلی اور پانی کی کمی پر احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ایک خودکش بم حملہ آور نے بغداد کے شمال میں واقع قصبے تکریت میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر اپنے ٹرک کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق دھما کے سے پہلےاس ہیڈ کوارٹر سے باہر لوگ پولیس میں بھرتی کے لیے قطار بنائے کھڑے تھے۔ دودوسرے واقعات میں ایک نامعلوم سپاہی، تین عراقی فوجی اورتیل کی فیکڑی میں کام کرنےوالےتین مزدور ہلاک ہوگئے۔ اس سے قبل عراق کے شمالی شہر سمارا میں امریکی فوجی گاڑی پر بم حملے میں دس امریکی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔ امریکی فوج گاڑی پر یہ حملہ ہفتے کی شام کو ہوا تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حملے میں تین امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل امریکی فوج نے دعوی کیا تھا کہ اس نے بغداد کے جنوب میں ایک کارروائی میں چھ مزاحمت کاروں کو ہلاک اور بارہ کو گرفتار کر لیا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق جمعہ کی شام کو مزاحمت کاروں نے کئی جگہوں پر ایک ساتھ حملے کیے۔ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی میں چھ مزاحمت کار ہلاک اور بارہ کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔ گزشتہ ماہ امریکی فوج پر ایک حملے میں چودہ امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ امریکی خبررساں ادارے اے پی کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک عراق میں اٹھارہ سو ستائیس امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنوبی عراق میں ہنگامے ان مظاہروں میں ایک شخص کے ہلاک اور کئی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ میں کئی پولیس والے بھی زخمی ہو گئے ہیں۔ سماوا میں اس سے قبل بے روزگاری اور غیر ملکیوں کی فوجوں کی موجودگی کے خلاف بھی ہنگامے ہوچکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||