لبنان میں ملیشیا کے رہنما کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں عیسائی ملیشیا کے رہنما سمیر جعجع کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ملک میں خانہ جنگی کے دوران کیے گئے جرائم کی پاداش میں گیارہ سال قید کاٹی ہے۔ مسٹر جعجع لبنانی فورس ملیشیا کے سربراہ تھے جس نے اسرائیل کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔ انہیں گزشتہ ہفتے ہی پارلیمنٹ نے معافی دی تھی۔ مسٹر جعجع واحد لبنانی جنگجو رہنما تھے جنہیں ملک کی پندرہ سالہ خانہ جنگی کے دوران کیے گئے جرائم کی پاداش میں سزا سنائی گئی تھی۔ امید ہے کہ باون سالہ سمیر جعجع طِبی معائنے کے لیے ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ مبصرین شامی فوجوں کی لبنان سے انتیس سال بعد انخلاء کے بعد دمشق مخالف ملیشیا رہنما کی رہائی قومی مصالحت کی طرف ایک اور قدم قرار دے رہے ہیں۔ جیل سے رہائی کے بعد بیروت ائرپورٹ سے اپنے حامیوں سے ٹیلی ویژن خطاب میں مسٹر جعجع نے کہا کہ ’آپ اس بڑی جیل سے باہر آ گئے ہیں جس میں آپ کو ڈالا گیا تھا اور آپ نے ہی مجھے بھی چھوٹی جیل سے نکالا ہے۔‘ اگرچہ جیل سے رہائی کے وقت مسٹر سمیر جعجع مزید دُبلے دکھائی دے رہے تھے لیکن ان کی آواز ابھی تک توانا اور واضح تھی۔ امید ہے کہ منگل کے روز وہ یورپ کے کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہو جائیں گے۔ سن انیس سو نوے میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد ملک میں عام معافی کا اعلان کر دیا گیا تھا لیکن مسٹر سمیر جعجع کو انیس سو چورانوے میں ایک گرجا گھر پر بم حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کے خلاف جنگی جرائم کی فائل کو دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ انہیں جنگ کے دوران سیاسی بنیاد پر قتل اور دیگر ہلاکتوں کی پاداش میں کئی مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے گزشتہ گیارہ سال لبنان کی وزارت دفاع کے ایک حراستی مرکز میں قید تنہائی میں گزارے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||