لبنان:بم دھماکہ میں صحافی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیروت کے عیسائی اکثریت کے رہائشی علاقہ میں ایک کار بم دھماکے میں لبنان کےایک مشہور صحافی ہلاک ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ’النہر‘ اخبار کے سمیرقاسر بیروت کے علاقہ اشرافیہ میں اپنےگھر کے قریب بم کا شکار ہوئے۔ سمیرقاسرلبنان میں اس جماعت کے حامی کے طور پر جانے جاتے تھے جو کہ لبنان میں شام کی مداخلت کے خلاف ہے۔ یاد رہے شدید بین الاقوامی دباؤ اور لبنان میں ایک بڑی تحریک کے بعد شام نے لبنان سے اپنی فوجیں اکیس سال کے بعد اس سال اپریل میں نکال لی تھیں۔ سمیرقاسر’النہر‘ کے نامور کالم نگار تھے اور وہ اخبار کے صفحہ اول پرشائع ہونےوالےاپنے مضامین میں لبنان کی موجودہ حکومت پر اس وجہ سے شدید تنقید کرتے رہے ہیں کہ وہ شام کی حمایتی ہے۔ اس سال فروری میں لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد سمیرقاسر دہماکے میں ہلاک ہونےوالی دوسری بڑی شخصیت ہیں۔ رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد لبنان اسی قسم کےسیاسی بحران کا شکار ہوگیا تھا جو کہ ملک میں 1975 تا 1990 کی خانہ جنگی کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔ دہماکے کے بعد جب ہجوم جلتی ہوئی کار کے گرد جمع ہوا تولوگوں نے سمیر قاسر کی لاش کو ڈرائیور کے ساتھ والی نشت پر پھنسے ہوئے پایا۔ لبنان کے ٹیلی ویژن کے مطابق دہماکے میں سمیر کی اہلیہ غزال خوری بھی زخمی ہوئیں جنہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بم ڈرائیونگ سیٹ کے نیچے چھپایا گیا تھا۔ لبنان میں پارلیمانی انتخابات 29 مئی سے شروع ہو چکے ہیں۔ 19 جون تک جاری رہنے والے ان انتخابات میں شدید سیاسی مخالفت رکھنے والےحریف آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ شامی فوجوں کے انخلاء کے بعد بیروت کے عیسائی علاقہ میں دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||