عراق: مصری سفیر کا قاتل گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراق میں القاعدہ کے ایک ایسےشدت پسند کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر شبہ ہے کہ وہ عراق میں مصری سفیر کے اغوا اور قتل میں ملوث تھا۔ خمیس فرحان عابد الفہداوی کو جسے ابو سیبہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے رمادی کے قصبے سے گرفتار کیا گیا۔ امریکی فوج کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ خمیس فہداوی عراق میں القاعدہ کے سینیئر لیفٹیننٹ تھے اور ان پر بحرینی اور پاکستانی سفراء پر حملے اور مصری سفیر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ امریکی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے الزرقاوی کے ایک اہم ساتھی ابو عبد العزیز کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ابومصعب الزرقاوی کی قیادت میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے گزشتہ ہفتے دعوٰی کیا تھا کہ انہوں نے ہی مصری سفیر کو اغوا کر کے قتل کیا ہے۔ ابومصعب الزرقاوی پر عراق میں موجود متعدد غیر ملکیوں کو اغوا کرنے اور مارنے کا الزام ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو دکھایا گیا جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ وہ عراق اور اسرائیل میں مصر کے لیے کام کر چکا ہے۔ اسی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں مصر کی جانب سے عراق اور امریکی حکومتوں کی حمایت کے وجہ سے مارا گیا ہے۔ تاہم مصری سفیر کے قتل کی ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||