عراق: سیستانی کے معاون قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شیعہ رہنما آیت اللہ سیستانی کے معاون كمال الدين الغریفی کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق کمال الدین الغریفی کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ نماز جمعہ ادا کے لیے مسجد جا رہے تھے۔ کمال الدین الغریفی کے چار محافظ بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے عراق میں سیاسی رہنماؤں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ عراق میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں اتنی شدت پیدا ہو گئی تھی اور بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق صدام حسین کا اقتدار ختم ہونے کے بعد یہ جون زیادہ خونی مہینہ تھا۔ اس سے پہلے ایک خود کش حملہ آور نے بغداد میں وزیر اعظم ابراہیم جعفری کی جماعت اسلامک دعوا پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا۔ وزیر اعظم ابراہیم جعفری اس وقت جماعت کے دفتر میں موجود نہیں تھے اور خود کش حملہ آور عمارت کے زیادہ قریب پہچنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا لیکن اس کے باوجود اس حملہ میں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہو گیا۔ جمعرات کو نامعلوم حملہ آوروں نے ایک اور سینئیر سیاسی رہنماء موعفق الرباعی کے کزن کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||