BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 June, 2005, 16:16 GMT 21:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانوی کوگولی ماری گئی تھی‘
ٹام ہنڈل کی ماں
برطانوی طالبعلم ٹام ہنڈل کی ماں عدالت میں فیصلہ سن رہی ہے۔
اسرائیلی عدالت نے قرار دیا ہے کہ اسرائیلی فوجی نےغرب اردن میں ایک برطانوی طالبعلم پر فائرنگ کی تھی۔

اسرائیلی فوجی نے برطانوی طالبعلم ٹام ہنڈل کو اس وقت گولی مار تھی جب وہ ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر غرب اردن کے علاقے میں اسرائیلیوں کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ٹام ہنڈل نو مہینے تک کومے میں رہنے کے بعد فوت ہو گیا تھا۔

عدالت نے سابق اسرائیلی سارجنٹ وحید تیسر کو مجرم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ اس نے بائیس سالہ ٹام ہنڈل کو اپریل 2003 میں زخمی کیا تھا جس سے وہ بعد میں ہلاک ہو گیا۔

ٹام ہنڈل کے والد اینتھونی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ان کو پریشانی اس بات کی ہے کہ اسرائیلی نے اپنے فوجیوں کو سویلین پر گولیاں چلانے کا اختیار دے رکھا ہے۔

سابق اسرائیلی سارجنٹ وحید تیسر ہتھکڑی لگا کر عدالت لایا گیا۔ وحید تیسر نے عدالت کے بعد کچھ فوٹو گرافروں پر اس وقت پر حملہ کرنے کی کوشش کی جب وہ اس کی تصویریں بنا رہے تھے۔

گواہوں نے عدالت کو بتایا ہے کہ ٹام ہنڈل لڑکوں کو مظاہرے کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا جب اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کر دی۔

اسرائیل فوج پہلے ان الزامات کی تردید کرتی رہی لیکن لیکن برطانوی حکومت کے پریشر میں وحید تیسر پر فرد جرم عائد کی۔

وحید تیسر کا تعلق ایک بدو عرب قبیلے سے ہے اور اب اس کو فوج سے نکال دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد