میں عہدہ نہیں چھوڑوں گا: ایہود | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں ایریئل شیرون کی قیادت میں حکمراں لیکود پارٹی اور اپوزیشن لیبر پارٹی کے درمیان قومی وحدت کی حکومت بنانے کے معاہدے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ حکمران جماعت اور حزبِ اختلاف کے اہلکاروں نے معاہدے پر اتوار کو دستخط کرنے تھے لیکن لیبر پارٹی کے لیڈر شیمون پیریز کو نائب وزیرِ اعظم بنانے کا مسئلہ آڑے آ رہا ہے۔ اسرائیلی آئین کے مطابق ملک میں صرف ایک نائب وزیرِ اعظم ہو سکتا ہے اور موجودہ نائب وزیرِ اعظم ایہود آلمیرٹ کہتے ہیں کہ وہ شیمون پیریز کے لیے اپنا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس قضیے کی وجہ سے فی الحال دونوں طرف کے اہلکاروں میں مذاکرات رک گئے ہیں لیکن دونوں جماعتیں اب بھی مسئلے کا آئینی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیبر پارٹی کے رہنما شیمون پیریز کے ایک ترجمان نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ اس معاہدے کی تفصیلات بھی طے کر لی گئی تھیں۔ اگر تازہ آئینی پیچیدگی ختم ہوگئی تو معاہدے کی رُو سے لیبر پارٹی کو آٹھ وزارتیں ملیں گی جبکہ شیمون پیریز اسرائیل کے نائب وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔ اس معاہدے سے وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کو غزہ سے یہودی آباد کاروں کو واپس لانے کے منصوبے میں کافی مدد ملے گی۔ ایریئل شیرون کوقبل از وقت انتخابات سے بچنے کے لیے لیبر پارٹی کی مدد کی ضرورت ہے۔ ایریئل شیرون کو لیبرپارٹی کی مدد کی ضرورت اس وقت پڑی جب انہوں نے ایک دوسری جماعت کے اراکین کو جو ان کی حکومت میں شامل تھے اس بات پر حکومت سے باہر کر دیا کہ انہوں نے بجٹ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ وزیرِ اعظم شیرون کا غزہ سے یہودی آباد کاروں کی واپسی کا متنازعہ منصوبہ خود ان کی حکومت کی بقا کے لیے ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ تاہم لیبر پارٹی اس منصوبے کی حامی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||